چین-پاکستان اطلاعاتی راہداری کا آغاز، باہمی دوستی کے لئے عوامی حمایت مزید مضبوط ہونے کی امید

0

اسلام آباد (شِنہوا) چین اور پاکستان کے درمیان ذرائع ابلاغ، غلط معلومات کی جانچ، کاروبار، تحقیق اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے یہاں چین-پاکستان اطلاعاتی راہداری کا آغاز کیا گیا۔تقریب میں پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چین کی وزارت خارجہ کے شعبہ پریس، مواصلات اور عوامی سفارت کاری کی ڈائریکٹر جنرل اور وزارت کی ترجمان ماؤ نِنگ اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے شرکت کی اور خطاب کیا۔دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ، تھنک ٹینکس اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 600 نمائندوں نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کی معیشتوں کو آپس میں جوڑتی ہے، جبکہ اطلاعاتی راہداری کا مقصد رابطوں اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے 4 اہم شعبے ہیں۔ ان میں غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کے درمیان تعاون اور معلومات کی تصدیق، کاروباری اداروں کے روابط مضبوط بنانے کے لئے تجارتی تعاون، علم کے تبادلے اور فکری روابط کے فروغ کے لئے تھنک ٹینکس اور تحقیق، جبکہ عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لئے ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں کے درمیان تبادلے شامل ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اطلاعاتی راہداری دونوں ممالک کے عوام تک ان کی اپنی زبانوں میں پاک چین دوستی کی کہانیاں پہنچائے گی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل پر مبنی برادری کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرے گی۔ماؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور پاکستان سدابہار سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت دار ہیں اور سی پیک دونوں ممالک کے عوام کو ٹھوس فوائد پہنچا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کہانیاں لوگوں کی سوچ اور طرز عمل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان ایسی بہت سی قابل ذکر کہانیاں موجود ہیں جنہیں بیان کیا جانا اور لوگوں تک پہنچایا جانا چاہیے۔ماؤ نے کہا کہ اطلاعاتی راہداری چین پاکستان تعاون کی مزید اور بہتر کہانیاں سامنے لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے عوام کے دلوں کو جوڑنے والا پل بنے گا اور عام لوگوں کی ایسی متاثر کن کہانیاں دوسروں تک پہنچائے گا جن میں وہ مل کر کام کرتے ہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کی دوستی کے لئے عوامی حمایت مزید مضبوط ہوگی۔جیانگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے مختلف محکموں، خصوصاً سفارتی اور اطلاعاتی اداروں کی بھرپور حمایت اور مختلف شعبوں، بالخصوص ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس کے قریبی تعاون کے باعث اطلاعاتی راہداری کا تصور حقیقت کا روپ دھار سکا ہے۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ راہداری دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے زیادہ سازگار عوامی رائے کا ماحول پیدا کرنے میں مدد دے گی، نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل چین- پاکستان مزید قریبی برادری کی تشکیل کے لئے مضبوط عوامی بنیاد فراہم کرے گی اور دونوں ممالک کی ترقی اور مشترکہ پیش رفت کی کہانیاں موثر انداز میں بیان کرنے کے لئے ایک بہتر مواصلاتی پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔تقریب میں چین اور پاکستان کی ثقافت اور کھانوں کو اجاگر کرنے والے سٹالز بھی لگائے گئے۔ دونوں ممالک کے فنکاروں نے اپنے اپنے قومی رسم و رواج اور ثقافتی روایات کو نمایاں کرنے والے پروگرام پیش کئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.