بیجنگ : چین کے صدر شی جن پھنگ نے 2026 کی عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں ایک کلیدی خطاب کیا، جس نے متعدد عالمی حلقوں میں پرجوش ردعمل پیدا کیا ہے۔مصنوعی ذہانت سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی مشاورتی ادارے کی سابق شریک چیئرپرسن کارمے آرٹیگاس نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے نہایت واضح انداز میں اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی انسان کو مرکزیت دینے اور انسانیت کی بھلائی کے اصول پر ہونی چاہیے تاکہ مشترکہ خوشحالی کو فروغ مل سکے۔ ان کے بقول یہ نہایت اہم تصور ہے، کیونکہ دنیا کو ایسے مشترکہ اصولوں کی ضرورت ہے جو ایک طرف عوام کے مفادات کا تحفظ کریں اور دوسری جانب اختراع اور ترقی کو بھی آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف گورننس ماڈلز کو یکجا کرتے ہوئے جدت اور ترقی میں توازن قائم کرنے کے حوالے سے دنیا چین کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔تمام فریقین کی مشترکہ کوششوں سے، "عالمی اے آئی تعاون تنظیم” شنگھائی میں قائم ہو گئی، اور 29 ممالک کے نمائندوں نے اس کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل امن دیپ سنگھ گل نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کو سرحدوں، سیاسی اختلافات اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اس ٹیکنالوجی کی مشترکہ حکمرانی کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ایک بار پھر کثیرالجہتی تعاون اور عالمی سطح کے مشترکہ حل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ عالمی اے آئی تعاون تنظیم کا قیام ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں موجود عالمی تفاوت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔متعدد غیر ملکی میڈیا نے 2026 کی عالمی اے آئی کانفرنس کو نمایاں کوریج دی ہے۔ مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین اے آئی کی بین الاقوامی ہم آہنگ ترقی کی وکالت کرتا ہے، ترقی پذیر ممالک کو ٹیلنٹ ٹریننگ فراہم کرتا ہے، اوپن سورس ٹیکنالوجی کا اشتراک کرتا ہے، اور ڈیجیٹل فرق کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ عالمی اے آئی ریگولیٹری نظام کو بہتر بنانے اور انٹیلیجنس ٹیکنالوجی کی صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے لیے انسان دوستی پر قائم رہنے کی اپیل کرتا ہے۔