بیجنگ :حال ہی میں، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے سوشل میڈیا پر چین کے "ٹرانسفارمرز” کے حقیقی ورژن یعنی "پاور پونٹون برج” کو دنیا کے سامنے متعارف کرایا۔حالیہ دنوں مسلسل شدید بارشوں کی وجہ سے چین کے گوانگ شی زوانگ خود اختیار علاقے کے گوئی گانگ شہر میں شی جیانگ ایجوکیشن پارک سیلاب کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اساتذہ اور طلبہ وہاں محصور ہو گئے ۔ اس اہم موقع پر، چائنا آن ننگ ریسکیو ٹیم نے ” پاورڈ پونٹون برج "کا استعمال کیا ۔ بظاہر یہ عام سے لوہے کے ڈبے پانی میں داخل ہوتے ہی واٹر ریسکیو ایئرکرافٹ کیریئر” میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ ایک 60 میٹر لمبا پونٹون پل 60 ٹن سے زائد وزن اٹھا سکتا ہے اور ایک ہی سفر میں 500 سے زائد افراد کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس کی مدد سے ، 24 گھنٹوں کے اندر 6,000 سے زائد پھنسے ہوئے اساتذہ اور طلبہ بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں، حالیہ گوانگ شی سیلاب کے دوران ڈرونز کو کم بلندی پر نگرانی، مواصلات اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا۔ بیڈو نیویگیشن سسٹم، آفات سے متعلق پیشگی وارننگ سسٹم، اور فضائی و زمینی مواصلاتی نیٹ ورکس انٹرنیٹ اور بجلی سے محروم علاقوں میں بھی درست پوزیشننگ اور ریسکیو آپریشنز کی مؤثر رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ زمین، پانی اور فضا میں مربوط کارروائیوں کے ذریعے چین نے ایک جدید ایمرجنسی ریسکیو نظام تشکیل دیا ہے، جو قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ کو مؤثر انداز میں یقینی بناتا ہے۔جدید ایمرجنسی ریسکیو سسٹم میں تکنیکی سہارا نہایت اہم ہے۔ اس تکنیکی حمایت کے پیچھے اعلیٰ سطح کا ڈیزائن کارفرما ہے۔ 2019 میں،سی پی سی کی 19ویں مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے 19ویں اجتماعی مطالعاتی اجلاس کے دوران، شی جن پھنگ نے ہنگامی انتظامی آلات کی تکنیکی معاونت کو مضبوط بنانے، مختلف سائنسی اور تکنیکی وسائل کو بہتر اور مربوط کرنے، ایمرجنسی مینجمنٹ ٹیکنالوجی میں خودانحصاری پر مبنی تخلیقات کو فروغ دینے، اور سائنسی، پیشہ ورانہ اور ذہین ایمرجنسی مینجمنٹ کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ اس اسٹریٹجک رہنمائی کے تحت، پاورڈ پونٹون برج اور ہیوی ڈیوٹی ڈرونز جیسے آلات تیزی سے ترقی کر چکے ہیں اور استعمال کے قابل ہو گئے ہیں، جس سے "عوام کی زندگی کو ترجیح دینے” کے تصور کو ریسکیو سرگرمیوں کے دوران حقیقی صلاحیت میں تبدیل کیا گیا ہے۔تکنیکی پیش رفت کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ، چین نے ایک منفرد ایمرجنسی ریسکیو فورس سسٹم بھی تیار کیا ہے، جس میں قومی جامع فائر اینڈ ریسکیو ٹیم مرکزی قوت کا کردار ادا کرتی ہے، پیشہ ور ریسکیو ٹیمیں رابطہ و ہم آہنگی کی ذمہ دار ہوتی ہیں، فوجی ایمرجنسی فورسز کلیدی فرائض انجام دیتی ہیں، جبکہ سماجی تنظیمیں اور رضاکار معاونت فراہم کرتے ہی ۔ گوانگ شی میں حالیہ سیلاب کے دوران، متعدد شہری ڈرون رضاکار ٹیمیں مدد فراہم کرنے کے لیے پہنچیں اور فضائی سپلائی لائنز کو ہموار کیا۔ اس دوران ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اپنی سماجی ذمہ داریوں کو فعال طور پر نبھا رہی ہیں۔ ڈی جے آئی جیسی کمپنیوں نے امدادی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے ڈرونز کے لیے خصوصی معاون پالیسیاں متعارف کرائیں، جو فرنٹ لائن ریسکیو کارروائیوں کے لیے مضبوط سہارا ثابت ہوئیں ۔ قومی قوتوں کی مؤثر ہم آہنگی سے لے کر معاشرے کے تمام شعبوں کی مشترکہ کوششوں تک، یہ نظام بڑے قومی اہداف کے حصول کے لیے ادارہ جاتی برتری کو نمایاں کرتا ہے اور "کسی ایک کو مشکل پیش آئے تو ہر طرف سے مدد پہنچے” کے چینی تصور کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ، چین اپنے تجربات بھی فعال طور پر شیئر کر رہا ہے اور آفات سے نمٹنے کے عالمی انتظامات کی بہتری میں مسلسل حصہ ڈال رہا ہے۔ چین نے بیڈو نیویگیشن اور "مازو” ملک گیر ابتدائی وارننگ پلان کو بین الاقوامی سطح متعارف کرایا ہے ۔ "بیلٹ اینڈ روڈ” انیشی ایٹو کے تحت قدرتی آفات کی روک تھام اور ہنگامی انتظام کے بین الاقوامی تعاون کے میکانزم کے ذریعے غیر ملکی امدادی تربیتی کورسز کے انعقاد اور سرحد پار ریسکیو مشقوں کی بدولت، چین ترقی پذیر ممالک کو آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد فراہم کر رہا ہے، اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دے رہا ہے۔ماہرین پیش گوئی کرتے ہیں کہ دنیا میں شدید موسمی واقعات کا رجحان آئندہ بھی برقرار رہنے کا امکان ہے ، جبکہ انسانی معاشرہ قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے دوچار ہے ۔ پونٹون پلوں سے لے کر بیڈو سیٹلائٹس تک، چین نے سائنسی و تکنیکی مدد سے زندگیوں کو حفاظت فراہم کی اور ایمرجنسی ریسکیو صلاحیت کو جامع طور پر بڑھایا ، جو ایک حکمران جماعت کے "عوام کو اولین ترجیح دینے” کے اصل تصور کی عکاسی ہے، اور ایک ذمہ دار بڑی طاقت کی جانب سے عالمی گورننس میں مثبت توانائی کی فراہمی بھی ہے۔ مستقبل میں بھی چین اپنے پختہ عزم اور اعتماد کے ساتھ ہر قدرتی چیلنج کا مقابلہ کرے گا اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔