بیجنگ : نام نہاد "بحیرۂ جنوبی چین ثالثی کیس” کے غیر قانونی فیصلے کے اجراء کو دس سال مکمل ہو چکے ہیں۔ فلپائن نے یکطرفہ طور پر نام نہاد "بحیرۂ جنوبی چین ثالثی” کا آغاز کیا، حالانکہ یہ قانونی طور پر ثالثی شروع کرنے کی بنیادی شرائط پر پورا نہیں اترتا تھا۔
اس اقدام نے "بحیرۂ جنوبی چین میں فریقوں کے طرزِ عمل سے متعلق اعلامیے” کی اس شق کی بھی خلاف ورزی کی، جس کے مطابق براہِ راست متعلقہ فریقین کو اختلافات دوستانہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا تھے۔ اس کے علاوہ فلپائن نے چین کے ساتھ اپنے دوطرفہ معاہدوں میں کیے گئے وعدوں سے بھی انحراف کیا۔چین کا مؤقف ہمیشہ واضح اور مستقل رہا ہے کہ وہ اس نام نہاد "ثالثی فیصلے” کو نہ قبول کرتا ہے اور نہ ہی تسلیم کرتا ہے۔ اسی طرح چین اس نام نہاد فیصلے کی بنیاد پر کیے جانے والے کسی بھی دعوے یا اقدام کی بھی مخالفت کرتا ہے اور اسے قبول نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون دونوں کے مطابق بحیرۂ جنوبی چین کے جزائر اور ان سے ملحقہ سمندری علاقوں پر چین کی خودمختاری ناقابلِ تردید ہے۔ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ دس سال قبل اس غیر قانونی فیصلے کے اجراء سے لے کر گزشتہ ایک دہائی کے دوران فلپائن کی جانب سے بحیرۂ جنوبی چین میں بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے پسِ پردہ بیرونی قوتوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت موجود رہی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران امریکہ اور بعض مغربی ممالک نے بحیرۂ جنوبی چین میں "آزادیٔ جہاز رانی” کے نام پر بارہا فوجی جاسوسی اور گشت کی کارروائیاں کیں اور جان بوجھ کر اس مسئلے کو مزید ہوا دی۔چینی حکومت متعدد بار بیانات اور وائٹ پیپرز جاری کر چکی ہے، جن میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ بحیرۂ جنوبی چین سے متعلق اختلافات کو تاریخی حقائق کے احترام، بین الاقوامی قانون اور براہِ راست متعلقہ فریقین کے درمیان مذاکرات و مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، تاکہ بحیرۂ جنوبی چین میں امن و استحکام برقرار رہے۔اس وقت چین اور آسیان کے بیشتر ممالک کی مشترکہ کوششوں سے بحیرۂ جنوبی چین کی مجموعی صورتحال مستحکم ہے۔ چین آسیان ممالک کے ساتھ مشاورت کے عمل کو تیز کر رہا ہے تاکہ جلد از جلد "بحیرۂ جنوبی چین میں فریقوں کے طرزِ عمل کے ضابطۂ کار” پر اتفاقِ رائے قائم کیا جا سکے اور بحیرۂ جنوبی چین کو امن، دوستی اور تعاون کا سمندر بنایا جا سکے۔