بیجنگ :چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے باہمی اشتراک سے ” کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے 105 سال: کامیابیاں، تجربات، اور چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے” کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر تھیں، جبکہ مہمانِ اعزاز پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن چیانگ تھے۔ سیمینار میں سرکاری حکام، سفارت کاروں، ماہرین، اساتذہ، طلبہ اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے 105 سال محض ایک عدد نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، قومی احیا، اصلاحات اور ترقی کے مختلف ادوار کی ایک عظیم داستان ہیں، جس نے نہ صرف چین کو ترقی و خوشحالی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کیا بلکہ دنیا کے متعدد ممالک کو بھی مشترکہ ترقی اور تعاون کے سفر میں شریک کیا۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے، جدیدکاری، مؤثر طرزِ حکمرانی اور طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بندی میں چین کی کامیابیاں ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک۔چین تعاون کے اگلے مرحلے میں تعلیم، سائنسی تحقیق، مہارتوں کی ترقی، اختراع، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور جامعات و تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان اور چین کو "آہنی بھائی” قرار دیتے ہوئے چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کے وژن کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔چینی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن چیانگ نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے گزشتہ 105 برسوں میں چین کو ایک خوشحال، مستحکم اور عالمی سطح پر بااثر ملک بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے، معاشی ترقی، تعلیم، سائنسی و تکنیکی جدت اور جدیدکاری میں چین کی کامیابیاں سی پی سی کی دانشمندانہ قیادت کا مظہر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت اعلیٰ معیار کے سی پیک تعاون کو آگے بڑھانے، چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کے ایکشن پلان پر عمل درآمد اور عالمی ترقی، عالمی سلامتی، عالمی تہذیب اور عالمی طرزِ حکمرانی کے اقدامات کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔سیمینار کے کلیدی مقرر سردار مسعود خان نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے مؤثر طرزِ حکمرانی، پالیسیوں کے تسلسل اور دوراندیش قیادت کے ذریعے چین کی جدیدکاری اور عالمی کردار کو نئی جہت دی۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین۔پاکستان اقتصادی راہداری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے اہم ستون بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی ترقی، زراعت، جدید ٹیکنالوجی اور فنی تربیت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے چیئرمین سفارت کار خالد محمود نے کہا کہ دوراندیش قیادت، مسلسل اصلاحات، تکنیکی جدت اور طویل المدتی منصوبہ بندی نے چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی میں چین کی کامیابیاں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے قابلِ قدر رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، گرین ڈویلپمنٹ، زرعی جدیدکاری اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے نئے شعبوں تک بھی وسعت اختیار کر چکا ہے۔پاکستان کی سابق سفیر نائلہ چوہان نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، جدیدکاری اور مؤثر معاشی منصوبہ بندی میں چین کی کامیابیاں ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مؤثر ترقیاتی ماڈل ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، صحت، سیاحت، اختراع اور نوجوانوں کے تبادلوں سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں پاک۔چین تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔سیاسی و معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر جبران حسین رضا نے کہا کہ چین کا ترقیاتی ماڈل معاشی اصلاحات، اختراع پر مبنی معیشت اور مضبوط ادارہ جاتی و صنعتی بنیادوں پر استوار ہے، جس نے صنعتی ترقی، معاشی استحکام اور عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری کو ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی ادارہ جاتی اور صنعتی استعداد مزید مضبوط بنانا ہوگی۔ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عبدالواحد تونسوی نے کہا کہ عوامی مرکزیت، ادارہ جاتی اصلاحات، مؤثر وسائل کے استعمال اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری چین کی ترقی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور صنعت کاری میں مسلسل سرمایہ کاری نے چین کی پیداواری صلاحیت اور انسانی وسائل کو مضبوط بنایا ہے۔سیمینار کے اختتام پر چین کی جدیدکاری، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے طرزِ حکمرانی اور پاک۔چین تعاون کے مستقبل پر سیرحاصل تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت نے چین کو عالمی اقتصادی طاقت میں تبدیل کیا ہے اور اس کا ترقیاتی ماڈل دنیا، خصوصاً ترقی پذیر ممالک، کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جبکہ اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، چین۔پاکستان اقتصادی راہداری اور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں پاک۔چین ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون، عوامی روابط اور چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔