نئی قسم کی عسکریت پسندی کو پنپنے اور خطرہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، چینی مندوب

اقوام متحدہ :اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے جنرل اسمبلی میں "اقوام متحدہ کےمنشور کے عالمی دن” کی یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دن کی یاد صرف ماضی کا جائزہ لینے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے کے لیے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا بے یقینی اور متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، جبکہ اقوام متحدہ کو بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے تمام ممالک کو عملی اقدامات کے ذریعے اقوام متحدہ کے منشور کا تحفظ کرنا، اور ادارے کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانا ہوگا۔فو چھونگ نے کہا کہ تمام ممالک کو مشترکہ طور پر دوسری عالمی جنگ کی فتح کے نتائج کا دفاع کرنا چاہیے، تاریخ کا درست تصور مضبوطی سے قائم کرنا چاہیے، اور تاریخ کو مسخ کرنے والے کسی بھی غلط قول اور عمل کی مخالفت کرنی چاہیے۔ تاریخ کے المناک واقعات کو دوبارہ رونما ہونے ، اور قسم کی عسکریت پسندی” کو فروغ پا کر خطرہ بننے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہیے۔فو چھونگ نے مزید کہا کہ تمام ممالک کو حقیقی کثیرالجہتی نظام پر عمل کرتے ہوئے بین الاقوامی امور میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرنی چاہیے اور ایک زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی طاقتوں پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں، درست راستہ اختیار کریں اور دوسروں کے لیے عملی مثال قائم کریں۔

Comments (0)
Add Comment