موت اور زندگی کی جدوجہد سے احیاء تک کا طویل سفر: لانگ مارچ کے جذبے کی عصری اہمیت


بیجنگ :پاکستان کے سیاسی حلقوں میں "لانگ مارچ” ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے ساتھ فوراً ایک تصویر کھینچ لاتا ہے۔ اکثر اس سے مراد شہروں کے درمیان پیدل نکلنے والا احتجاجی جلوس لی جاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت سے پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ سیاست میں "مستعار” لیا گیا یہ لفظ دراصل نوے برس  قبل چینی ریڈ آرمی کی اس جنگی ہجرت کا نام ہے جو موت کے منہ سے نکلی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1930ء کی دہائی میں امریکی صحافی ایڈگر سنو کی تحریر کردہ دستاویزی کتاب "چین کے اوپر سرخ ستارہ” میں انہوں نے شمال مغربی چین کے انقلابی علاقوں میں اپنی عملی رپورٹنگ کا بیان قلمبند کیا، جس میں چین کے کسان و مزدور ریڈ آرمی اور اس کے بہت سے اہم قائدین کا حال بیان کیا گیا۔ اسی کتاب سے "لانگ مارچ” کا لفظ دنیا بھر میں مشہور ہوا اور بعد میں کئی ملکوں کی سیاسی سرگرمیوں میں اس کا مفہوم پھیل گیا۔ مگر جب ہم نوے برس قبل کی انسانی عزم کی اس سخت آزمائش کو دوبارہ دیکھیں تو شاید "لانگ مارچ” کے دو حرفوں کا اصل رنگ واپس مل جائے۔ یہ اقتدار کے لیے کوئی فوجی مارچ نہیں تھا، بلکہ انتہائی بے سروسامانی میں قوم کی خاطر نکلنے والا راستہ تھا۔1930ء کی دہائی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا  کی زیرِ قیادت انقلابی قوتوں کو گو مین تانگ پارٹی کی رجعتی حکومت کی جانب سے وسیع فوجی محاصرے کا سامنا کرنا پڑا۔ انقلابی ٹھکانے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے اور انقلابی قوتیں مٹ جانے کے خطرات سے دوچار تھیں۔ انقلاب کی زندہ طاقت کو بچانے اور نئی زندگی و ترقی کی جگہ تلاش کرنے کے لیے چین کے کسان و مزدور ریڈ آرمی نے 1934ء سے 1936ء تک ایک ایسا لمبا اور نایاب اسٹریٹجک سفر طے کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ دس ہزار کلومیٹر سے زیادہ کے اس راستے میں ریڈ آرمی نے دشمن کی گھیرابندی اور تعاقب کو بارہا توڑا، برفانی پہاڑوں کو عبور کیا، بنجر میدانوں سے گزرے، لا تعداد بار زندگی اور  موت  کی کشمکش سے گزرے اور بالآخر اس کی مختلف شاخیں شمال مغربی چین میں فتح مندانہ طور پر پہنچ گئیں۔ اس طویل سفر نے بھاری قربانیاں دیں، مگر انقلابی طاقت کو مٹانے کی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور زوال کے قریب پہنچے ہوئے چینی انقلاب کا مرکزی شعلہ بجھنے نہ دیا۔ اس سے بھی بڑھ کر، اس سفر نے انقلابیوں کو عملی تجربے اور رجعتی طاقتوں سے سخت ترین لڑائی میں ایک خاص سبق سکھایا، اور چینی حالات سے مطابقت رکھنے والی  انقلابی راہ چنی گئی جس نے بعد میں جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ، ایک نئی عوامی ریاست کے قیام اور سو برس کی چینی ذلت کے خاتمے کے لیے پختہ بنیاد رکھی۔ یہ وہ تاریخی موڑ تھا جس نے چینی قوم کو زوال سے نکال کر دوبارہ جنم لینے کی راہ پر گامزن کیا۔نوے برس کی تاریخی دھول مٹنے کے بعد لانگ مارچ اب محض ایک واقعہ نہیں رہا، اس کا جوہر چینی ترقی کا بنیادی  نقطہ بن چکا ہے اور نئے دور میں اس کی منفرد اہمیت برقرار ہے، جو چین کو آگے بڑھنے میں رہنمائی دیتی ہے۔ عام لوگوں کے ذہن میں "سخت محنت و مشقت” کا سطحی تصور رکھنے کے برعکس، نئے دور کے لانگ مارچ کے جذبے کا مرکز   تنگی میں خود کشادہ راستہ نکالنا، بدلتے حالات میں اپنی اصل منزل پر قائم رہنا اور بوجھ اٹھاتے ہوئے خودداری اور خود کفیل ہونے کی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہے۔ آج کی دنیا مسلسل تبدیل ہو رہی ہے،علاقائی تصادم، ٹیکنالوجی کی رکاوٹیں، عالمی معیشت کی سست روی اور یہ سب مل کر چیلنج بن رہے ہیں، اور چین کا ترقیاتی راستہ دراصل جنگی  دھوئیں کے بغیر شروع ہونے والا ایک "نیا  لانگ مارچ” ہے۔ نوے برس یہ ثابت کرتے ہیں کہ لانگ مارچ نے چین کو صرف تلخ یادیں  نہیں دیں، بلکہ بحران سے نمٹنے اور دشواریوں کو توڑنے کا ایک روحانی نمونہ بھی دیا ہے۔ پرانا لانگ مارچ اس وقت جاپانی حملہ آوروں کے دباؤ اور  انقلاب و رجعت کے درمیان طاقت کے مقابلے میں قوم کے لیے بقا کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش تھی۔ آج کا نیا  لانگ مارچ عالمی طاقتوں کی کشمکش، ٹیکنالوجی کی ناکہ بندی اور ترقیاتی رکاوٹوں کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہے، تاکہ ملک کی طویل المدتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے اور قوم کے لیے احیاء کی خودمختاری حاصل کی جا سکے۔نوے برس گزر گئے، مگر لانگ مارچ کا شعلہ آج تک بجھا نہیں۔ بیرونی دنیا میں "لانگ مارچ” کے لفظ کو جس طرح مسخ کیا گیا ہے، اس سے دنیا کو چاہیے کہ وہ چینی انقلابی تاریخ میں اس کے گہرے رنگ کو دیکھے اور پڑھے۔ یہ کوئی سادہ سفر نہیں تھا، بلکہ ایک قوم کا وہ روحانی نشان ہے جو تنگی میں تپ کر بنا تھا۔ تاریخ کو دیکھیں تو لانگ مارچ نے چین کو بچایا، آج کے دور میں لانگ مارچ کا جذبہ چین کو ڈھالتا اور مضبوط کرتا ہے۔ قومی احیاء کے لمبے سفر میں لانگ مارچ کا جذبہ ہمیشہ چین کے لیے دشواریوں کو توڑنے، خطروں کا مقابلہ کرنے اور مستقبل کی جانب بڑھنے کی مرکزی طاقت رہے گا،یہی وہ حوصلہ اور ہمت ہے جو ہر طوفان کا سامنا کرنے والی اس قوم کو چیلنجوں کا سامنا کرنے اور آگے  بڑھتے جانے کا ساتھ دیتی ہے۔

Comments (0)
Add Comment