بیجنگ :جاپان اور فلپائن کی جانب سے سمندری حدود کے تعین سے متعلق مذاکرات پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیان کے جواب میں تائیوان انتظامیہ کے محکمہ خارجہ امور نے جاپان اور فلپائن کے اس اقدام کی توثیق کی۔ منگل کے روز چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جاپان اور فلپائن جس سمندری علاقے پر سمندری حدود کی حد بندی پر غور کر رہے ہیں، وہ تائیوان کے مشرق میں واقع ہے۔ سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق، ساحلی یا ہمسایہ ممالک کے درمیان خصوصی اقتصادی زونز اور براعظمی شیلف کی حدود کو انصاف کے اصول کے مطابق متعلقہ ریاستوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے متعین کیا جائے گا۔ تائیوان کے مشرق میں سمندری حد بندی سے متعلق مذاکرات میں چین کی شرکت لازمی ہے۔ جاپان اور فلپائن نے چین کو نظراندازکرکے یکطرفہ طور پر نام نہاد سمندری حد بندی کے مذاکرات شروع کیے ہیں، جو چین کے سمندری حقوق اور مفادات کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہیں اور چین اس کی کبھی اجازت نہیں دے گا۔ ماؤ نینگ نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں کنارے ایک چین کے حصے ہیں۔ قومی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق کا تحفظ آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان تمام چینی باشندوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ڈی پی پی انتظامیہ چینی قوم کے مجموعی مفادات کا سودا کر کے قوم کی غدار بن چکی ہے، جسے آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف کے ہم وطنوں کی جانب سے لامحالہ مسترد کر دیا جائے گا اور تاریخ بھی ان کا محاسبہ کرے گی۔