اضطراب سے سکون تک: بلوچستان میں زچگی اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال میں چینی تعاون سے نمایاں بہتری

0

اسلام آباد (شِنہوا) 28سالہ گل بانو کے لئے اپنے چوتھے بچے کی پیدائش ایک ایسا تجربہ ثابت ہوئی جس سے وہ پہلے 3بچوں کی پیدائش کے دوران محروم رہی تھیں اور وہ تھا ذہنی سکون۔
2ماہ قبل بانو بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ایک بنیادی مرکزِ صحت میں بچے کی پیدائش کے لئے پہنچی۔ اپنے گزشتہ تجربات کے برعکس اس بار وہاں جدید طبی آلات، تربیت یافتہ طبی عملہ اور صاف ستھرا، ضروری سہولتوں سے آراستہ زچگی کا کمرہ موجود تھا۔
بانو نے اپنے بچے کی پیدائش کا دن یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس بار مجھے خوف محسوس نہیں ہوا۔ یہاں ہر چیز دستیاب تھی اور چند سال پہلے کے مقابلے میں بچے کی پیدائش بہت آسان رہی۔‘‘
ان کی زچگی میں مدد دینے والے آلات میں رگوں کا پتہ لگانے والا ایک آلہ بھی شامل تھا، جس سے خصوصاً ڈرِپ لگانے یا خون کا نمونہ لینے کے لئے رگ تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ویکیوم ایکسٹریکٹر بھی موجود تھا، جس کی مدد سے بچے کی پیدائش میں سہولت ہوئی۔
تاہم بانو کے لئے فرق صرف طبی آلات کی دستیابی تک محدود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ملنے والی دیکھ بھال نے انہیں عزت اور اطمینان کا احساس دلایا۔
انہوں نے کہا کہ ’’میرے شوہر یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہیں اور روزانہ 5 امریکی ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے لئے معیاری طبی سہولتوں کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہے۔ یہاں مجھے ہر چیز مفت فراہم کی گئی، حتیٰ کہ زچگی کے لئے لباس بھی۔ بستر صاف تھا اور تمام آلات تیار تھے۔ مجھے کسی چیز کی فکر نہیں کرنا پڑی۔‘‘
بانو کا تجربہ بلوچستان بھر میں زچہ و بچہ کی صحت کی سہولتوں میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ چین کی حکومت کے تعاون سے ان مراکز میں ماؤں کو بچے کی پیدائش کے لئے زیادہ محفوظ اور باوقار طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
چین بلوچستان کی حکومت کو زچہ و بچہ کی صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے میں مدد دے رہا ہے۔ اس تعاون کے تحت صوبے بھر میں 100 طبی مراکز کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
اس تعاون کا مقصد طبی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، جدید آلات فراہم کرنا اور ماؤں و نومولود بچوں کے لئے طبی خدمات بہتر بنانا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں روایتی طور پر معیاری طبی سہولتوں تک رسائی مشکل رہی ہے۔
بانو جیسی خواتین کے لئے ان بہتریوں کا مطلب محض نئی مشینیں یا مرمت شدہ کمرے نہیں ہیں، بلکہ یہ اضطراب کے ساتھ زچگی کا سامنا کرنے اور پراعتماد ہو کر اس کا مقابلہ کرنے کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے علاج سے بہت خوش ہوں۔ ہماری مدد کرنے پر میں چین کی شکر گزار ہوں۔ میرے چوتھے بچے کی آمد صرف خاندان میں ایک نئے فرد کی شمولیت نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ بہتر طبی سہولتیں زندگی کے اہم ترین لمحات میں ایک ماں کے تجربے کو کس طرح بدل سکتی ہیں۔‘‘
کوئٹہ کے علاقے ہدیٰ میں قائم بنیادی مرکز صحت سے وابستہ طبی معالج ثنا فرقان نے شِنہوا کو بتایا کہ پاکستان میں بلوچستان میں ماؤں اور نومولود بچوں کی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبے کی 70 فیصد آبادی دور دراز، منتشر اور دشوار گزار علاقوں میں رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’کئی دہائیوں سے طبی سہولتوں تک رسائی سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ چین کے تعاون سےچلنے والا یہ منصوبہ بنیادی سطح پر مکمل طور پر ماؤں اور بچوں پر توجہ دینے والا پہلا بڑے پیمانے کا ہدفی اقدام ہے، جو دور دراز اضلاع میں خواتین کی دہلیز تک زندگی بچانے والی طبی سہولتیں پہنچا رہا ہے۔‘‘
نئے طبی آلات کی فراہمی اور مراکز کی تزئین و مرمت کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرقان نے بتایا کہ چینی حکومت نے الٹراساؤنڈ مشینیں، زچگی کے بستر، نومولود بچوں کو گرم رکھنے والے آلات، انکیوبیٹرز اور ضروری لیبارٹری آلات فراہم کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ان سہولتوں کی بہتری سے طبی خدمات تک رسائی آسان ہوگی، مراکز ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہوں گے، بروقت علاج ممکن ہوگا اور مریضوں کو مسلسل طبی دیکھ بھال ملے گی۔ یہ تمام عوامل زچگی کے بعد شدید خون بہنے، شدید انفیکشن اور پیدائش کے وقت بچے کو آکسیجن کی کمی کے باعث ہونے والی پیچیدگیوں سے اموات روکنے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے تحت شمسی توانائی کے نظام، ایمبولینسیں اور خواتین طبی عملے کے لئے تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس منصوبے سے بلوچستان کے بنیادی صحت کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں آنے کی توقع ہے۔ درمیانی مدت میں ہمیں ماؤں کی اموات کی شرح اور نومولود بچوں کی شرح اموات میں قابل پیمائش کمی، جبکہ قابل تدارک پیچیدگیوں میں نمایاں کمی کی امید ہے۔‘‘
فرقان کا ماننا ہے کہ اس تعاون کو خیرات کے بجائے بھائی چارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بلوچستان کے عوام، خصوصاً یہاں کی مائیں یہ بات کبھی نہیں بھولیں گی کہ جب انہیں مدد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو چین ان کے ساتھ کھڑا تھا۔‘‘
شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں پاکستان اور چین کا تعاون عوام کو مرکزِ نگاہ بنا کر ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہا ہے اور دونوں ممالک کی دوستی کو مقامی آبادی کے لئے ٹھوس فوائد میں تبدیل کر رہا ہے۔
کاکڑ نے کہا کہ چین کا شمار دنیا کے جدید ترین، موثر اور منصفانہ صحت کے نظام رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی وسیع آبادی کے باوجود چین نے ماؤں اور بچوں کی صحت کی سہولتوں تک ہمہ گیر رسائی حاصل کی ہے، جو پاکستان کے لئے ایک قابل تقلید مثال ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ ’’ہم زچگی کے دوران صحت کی نگرانی، دیہی ڈاکٹرز کے نظام اور ڈیجیٹل طبی ریکارڈ کے شعبوں میں چین کے تجربات سے سیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.