پاک۔چین کہانیاں |پاکستانی نوجوان کی موسیقی کے ذریعے چین کی ثقافت سے شناسائی
کونمنگ (شِنہوا) جب پاکستانی نوجوان علی محمد حسنین چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے لوک گیت ’’سان دو جیاؤ‘‘ گاتے ہیں تو وہ اس علاقے کی مقامی دھن کو خطے سے دور رہنے والے سامعین تک پہنچاتے ہیں۔ ان کے اس فن کے مظاہرے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔اس نوجوان پاکستانی کے لئے موسیقی چینی زبان بہتر بنانے، مقامی ثقافت کو جاننے اور چین کے لوگوں سے روابط قائم کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔حسنین پہلی بار 2023 میں چینی برج مقابلے میں شرکت کے لئے چین آئے تھے۔ یہ بین الاقوامی شرکاء کے لئے چینی زبان کا ایک مقابلہ ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ایک بحری سکول میں قائم کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان پڑھی تھی تاہم ابتدا میں انہیں اس زبان سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اس مقابلے نے ان کا رویہ بدل دیا۔حسنین نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’’جب میں نے دوسرے شرکاء کو اتنی اچھی چینی بولتے دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ میں خود بمشکل ہی یہ زبان بول سکتا ہوں۔ مجھے احساس کمتری ہوا، اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے سنجیدگی سے چینی زبان سیکھنی ہوگی۔حسنین نے اپنی سننے اور بولنے کی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لئے چینی دوستوں سے گفتگو اور مختصر ڈرامے دیکھنے کے ذریعے مشق شروع کی۔ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران وہ بعض اوقات ایک ہی شام میں 3 یا 4 ڈرامے دیکھ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چینی حروف کا مطالعہ کرتے اور چینی رسم و رواج کے بارے میں بھی سیکھتے ہیں۔حسنین کی چینی زبان کی استاد لیو یان نے انہیں چینی گیت سیکھنے کی ترغیب دی۔ یون نان پہنچنے کے بعد انہیں وہاں کی مقامی لوک موسیقی میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ دوستوں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز سے متاثر ہو کر انہوں نے ’’سان دو جیاؤ‘‘ جیسے گیت سیکھنا شروع کر دیئے۔حسنین نے بتایا کہ ’’میں نے دیکھا کہ یون نان کے لوک گیتوں کو زیادہ ویوز ملتے ہیں، اس لئے میں نے یہ گیت سیکھنا اور ان کی ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کر دیں۔‘‘ وہ اپنی گائیکی اور روزمرہ زندگی کی جھلکیاں چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ڈوئین اور وی چیٹ چینلز پر شیئر کرتے ہیں۔ان کی موسیقی میں دلچسپی صرف یون نان تک محدود نہیں۔ انہوں نے کینٹونیز زبان کے گیت بھی گانے کی کوشش کی ہے، جن میں مشہور بینڈ بیونڈ کا کلاسیکی گیت ’’کائی کو تیان کونگ‘‘ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ من نان زبان کے گیت بھی گاتے ہیں۔ وہ انٹرنیٹ پر ویڈیوز دیکھ کر اور گلوکاروں کی نقل کرتے ہوئے مصرع بہ مصرع یہ گیت سیکھتے ہیں اور ہر گیت کو چینی ثقافت کے ایک نئے پہلو کو جاننے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یون نان کے بارے میں ان کا تجسس وہاں کی متنوع نسلی ثقافتوں تک بھی پھیل گیا ہے، جن میں ہانی، دائی، یی، بائی، وا، لیسو اور نو نسلی گروہ شامل ہیں۔ انہیں خاص طور پر لی جیانگ پسند ہے، جہاں برف پوش یولونگ پہاڑ اور قدیم شہر نے ان پر گہرا اور دیرپا تاثر چھوڑا ہے۔حسنین کے لئے چینی زبان سیکھنے کی اہمیت صرف ثقافتی نہیں بلکہ عملی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ کی چینی زبان اچھی ہو تو کام زیادہ آسانی سے ہوتے ہیں۔ آپ کو آگے بڑھنے، لوگوں سے بات چیت کرنے اور دوست بنانے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔‘‘ چین میں ان کے زیادہ تر دوست چینی طلبہ ہیں جبکہ نیپال سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھی ان کی دوستی ہوئی ہے۔ روزمرہ گفتگو انہیں کلاس روم سے باہر بھی چینی زبان کی مشق کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔حسنین نے ستمبر 2024 میں کونمنگ میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور اس وقت کلینیکل میڈیسن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ گریجویشن کے بعد ان کا ارادہ پاکستان واپس آنے، میڈیکل لائسنسنگ کا امتحان دینے اور طبی شعبے میں عملی تجربہ حاصل کرنے کے لئے 4 سے 5 سال تک کسی ہسپتال میں کام کرنے کا ہے۔ان کا چینی نام ’’ہان منگ شینگ‘‘ پاکستان میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ایک استاد نے رکھا تھا۔ انہیں یہ نام پسند آیا اور انہوں نے اسے برقرار رکھا۔ چین میں اپنی تعلیم اور زندگی کا سفر جاری رکھتے ہوئے وہ زبان، موسیقی اور لوگوں کے ذریعے اس ملک کو مزید قریب سے جاننے کے خواہش مند ہیں۔اپنے پہلے چینی گیت سے لے کر یون نان کی لوک دھنوں تک موسیقی نے حسنین کو ایک ایک گیت کے ذریعے چین کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد دی ہے۔