چین کی تیز رفتار ترقی قارئین کی توجہ حاصل کر رہی ہے، سربراہ انڈونیشی قومی لائبریری
جکارتہ (شِنہوا) انڈونیشیا کی قومی لائبریری کے سربراہ ای امین الدین عزیز نے کہا ہے کہ چین کی تیز رفتار معاشی ترقی اور دنیا میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار سے انڈونیشیا کے مزید قارئین چین کی ترقی کے پس پردہ عوامل جاننے میں دلچسپی لیں گے۔
عزیز نے انڈونیشیا کی قومی لائبریری کو چین کے ناشرین اور منتظمین کی جانب سے 100 کتابوں کا تحفہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ ان کتابوں میں "شی جن پھنگ کی قیادت میں چین کا طرز حکمرانی” کی پہلی جلد کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی تبادلے انڈونیشیا اور چین کے درمیان باہمی مفاہمت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
عزیز نے شِنہوا کو انٹرویو میں کہا کہ ملک کی مرکزی لائبریری کی حیثیت سے ہم دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی مختلف کتابیں اور مواد بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتابوں کا یہ تحفہ صرف لائبریری میں کتابوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان علم، تہذیب اور موجودہ تجربات کے بامعنی تبادلے کی نمائندگی کرتا ہے۔
عزیز نے کہا کہ انڈونیشیا اور چین کے درمیان دوستی اور تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کی تیز رفتار معاشی ترقی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث حالیہ برسوں میں انڈونیشیا کے عوام میں چین کے بارے میں دلچسپی بڑھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی عطیہ کردہ کتابوں میں فلسفے، زبان، ثقافت، معیشت اور سیاست سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے جو انڈونیشیا کے قارئین کو چین کو زیادہ گہرائی اور جامع انداز میں سمجھنے کا قیمتی موقع فراہم کرتی ہیں۔
لسانیات کے ماہر عزیز نے چین کی زبان، معاشرے اور فلسفے کو سمجھنے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کی یہ دلچسپی چین کے مالیاتی مرکز شنگھائی میں سابقہ تعلیمی تجربات سے بھی جڑی ہے، جہاں انہوں نے شنگھائی اکیڈمی آف سوشل سائنسز (ایس اے ایس ایس) میں چھ ماہ پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق کے طور پر گزارے۔
شنگھائی میں قیام کے دوران عزیز نے اکثر ایس اے ایس ایس کی لائبریری میں تحقیق کی اور مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا۔ ان کے یادگار تجربات میں چین کے دیہات میں فیلڈ ریسرچ بھی شامل تھی۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ میری زندگی کے سب سے دلچسپ تجربات میں سے ایک تھا۔
مستقبل کے حوالے سے عزیز نے کتابوں کے اس تحفے کو انڈونیشیا کی قومی لائبریری اور چینی اداروں کے درمیان وسیع اور منظم تعاون کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
شراکت داری کے ممکنہ شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے عزیز نے کہا کہ انڈونیشیا کی قومی لائبریری میں نایاب اور تاریخی مخطوطات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، جن کے تحفظ کے لئے خصوصی مہارت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے پاس قدیم مخطوطات کو محفوظ رکھنے کی جدید ٹیکنالوجی موجود ہے اور میرے خیال میں یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہم مزید تعاون کرسکتے ہیں۔
عزیز نے دونوں ممالک کے لائبریری ماہرین کے درمیان مہارتوں کے تبادلے اور کتابوں کے ذخیرے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ چین کے پاس نئی کتابوں کا بہت بڑا اور جدید ذخیرہ ہے۔ انڈونیشیا کو بھی چین سے یہ کتابیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا کی قومی لائبریری اور چینی شراکت داروں کے درمیان مزید تفصیلی بات چیت مستقبل کے لئے مفید ثابت ہوگی۔
عزیز نے کہا کہ انڈونیشیا کی قومی لائبریری اور چینی شراکت داروں کے درمیان قریبی رابطے اور زیادہ منظم تبادلے دونوں ممالک کے لئے باہمی فائدے کا باعث بنیں گے اور انڈونیشیا اور چین کے تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔