پاک۔چین کہانیاں |پاکستانی صحافی نے چین کی متحرک کھپت کا راز جان لیا
چھونگ چھنگ (شِنہوا) چین کے جنوب مغربی شہر چھونگ چھنگ بلدیہ میں پہاڑی کے ساتھ شیاہاؤلی کی قدیم گلی کے درمیان کھڑی پاکستان ٹیلی ویژن نیوز کی صحافی مدیحہ عابد نے جو کچھ دیکھا اس سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئیں۔
پہاڑ کے ساتھ تعمیر شدہ یہ تاریخی علاقہ پرانی عمارتوں اور جدید تجارتی مقامات کا سنگم ہے جبکہ آبشاریں اور ہریالی قدرتی طور پر شہری مناظر میں گھل مل جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا خاص طور پر آبشار ناقابل فراموش تھی، جب میں نے اسے دیکھا تو میں بہت جذباتی ہو گئی، اس لمحے میں نے گہرائی سے محسوس کیا کہ دنیا خوبصورت ہے۔
مدیحہ عابد ان 30 ممالک اور خطوں کے اہم میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے ان 33 صحافیوں میں شامل تھیں جنہوں نے 18 سے 21 ستمبر تک منعقدہ میڈیا ٹور ’’ڈسکور چائنہ – میٹ چھونگ چھنگ: اے گلوبل کنزیومر ڈیسٹینیشن‘‘ میں شرکت کی۔ وہ چھونگ چھنگ کے بین الاقوامی کھپت کے مرکز کے طور پر ترقیاتی سفر کا جائزہ لینے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔
چھونگ چھنگ نے حالیہ برسوں میں اپنے مخصوص شہری مقامات بشمول دریاؤں، چٹانوں، گلیوں، غاروں اور فضائی نظاروں کے ذریعے کھپت کے نئے اور متنوع انداز اپنائے جس کی ایک مثال شیاہاؤلی ہے جو دکانوں، کیفے اور ثقافتی جگہوں کو اپنے پہاڑی خطے اور تاریخی فنِ تعمیر میں سموئے ہوئے ہے۔
مدیحہ عابد نے چھونگ چھنگ میں ہی فضائی حملے سے بچاؤ کے لیے تعمیر پناہ گاہ کا دورہ کیا جسے چائے خانے میں تبدیل کیا گیا ہے، انہوں نے ایک فلک بوس عمارت سے رات کے وقت شہر کا نظارہ بھی کیا۔
انہوں نے بتایا کہ چھونگ چھنگ ایک ایسا انوکھا شہر ہے جہاں نہ صرف جدید زندگی تاریخ اور ثقافت سے ملتی ہے بلکہ شہری مناظر قدرتی مناظر کے ساتھ بغیر رکاوٹ گھل مل جاتے ہیں۔ شہر کی اس مخصوص ترقی سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئیں۔
مدیحہ عابد نے چین میں خریداری کی سہولت اور راحت کا بھی ذکر کیا اور مسکراتے ہوئے اپنی چیزیں دکھائیں جن میں پانڈا کے ڈیزائن والا ہینڈ بیگ، روایتی چینی پنکھا، مختلف مقامی لذیذ پکوان اور مشروبات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا یہاں ادائیگی بہت آسان ہے۔ بینک کارڈز اور علی پے استعمال میں آسان ہیں۔ صرف چند ضروری ایپس کے ساتھ فون میں آپ کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو آپ کو چین میں گھومنے پھرنے اور آرام سے زندگی گزارنے کے لیے درکار ہے۔
چھونگ چھنگ نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سیاحوں کے لیے خریداری کا عمل بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات متعارف کرائے جن میں اہم مقامات پر مختلف زبانوں میں علامات کا اضافہ، ٹیکس ری فنڈ والے سٹورز کی تعداد بڑھانا اور غیر ملکی مسافروں کے لیے ادائیگی کی خدمات بہتر بنانا شامل ہے۔ شہر نے ایسے کاروبار کے لیے ترغیب اور سبسڈیز بھی دیں جو روانگی ٹیکس ری فنڈ کے نئے سٹورز کھولتے ہیں یا غیر ملکی بینک کارڈز استعمال کرنے والے پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز استعمال کرتے ہیں۔
ان اقدامات کے اثرات تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں چھونگ چھنگ میں روانگی کے وقت ٹیکس ری فنڈ کے لین دین میں سالانہ بنیاد پر 21.5 گنا اضافہ ہوا جبکہ ٹیکس ری فنڈ اشیا کی فروخت اور ری فنڈ شدہ ٹیکس کی رقم دونوں میں 67 فیصد اضافہ ہوا۔
پورے سفر کے دوران مدیحہ عابد نے ویڈیوز بنائیں اور پاکستان میں ناظرین کے ساتھ چین کے دلچسپ لمحات شیئر کیے۔ ایک صحافی کے طور پر وہ اپنے ناظرین کو نہ صرف چھونگ چھنگ کے مناظر اور کھپت کی متحرک سرگرمیوں سے روشناس کرانا چاہتی تھیں بلکہ یہ بھی دکھانا چاہتی تھیں کہ چین میں روزمرہ کی زندگی کیسی محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا چین میں ہر روز آپ کچھ نیا سیکھتے ہیں، کوئی نئی جگہ تلاش کرتے اور مہمان نوازی کی ایک نئی قسم کا تجربہ کرتے ہیں۔
مقامی لوگوں کے ساتھ اپنے میل جول میں انہیں جو اپنائیت محسوس ہوئی اس سے وہ بہت متاثر ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ چینی لوگ آپ کے مقامی روایتی لباس یا آپ کی رنگت کی وجہ سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کرتے، وہ بہت کھلے دل والے اور دوستانہ ہیں۔ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو مسکرا دیتے ہیں، ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے گھومتے پھرتے ہوئے لوگوں کی طرف سے بہت تعریفیں ملیں جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔
مدیحہ عابد کے لیے چھونگ چھنگ کا یہ سفر اس متحرک شہر کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ راستے میں انہوں نے جو ویڈیوز بنائیں ان کے ذریعے وہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو چین کے اس متحرک اور دلکش رخ سے روشناس کرانا چاہتی ہیں۔