روس چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا خیر مقدم کرتا ہے، روسی صدر
ماسکو:روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے میڈیا کے سوال کے جواب میں کہا کہ روس چینی اور امریکی سربراہان مملکت کے درمیان ملاقات کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں ہیں اور ہم ان کے درمیان ہونے والے کسی بھی مثبت معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ متعدد ممالک کی شخصیات کا ماننا ہے کہ چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان ملاقات بہت اہمیت کی حامل ہے اور دونوں ممالک بلکہ عالمی برادری کو مزید مستحکم اور صحت مند چین-امریکہ تعلقات کے قیام سے فائدہ ہوگا۔ یونان کے سابق وزیر خارجہ جارج کاتروگالوس نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کا یہ اعلان کہ اگلے پانچ سالوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تبادلے اور مطالعہ کے لیے چین مدعو کیا جائے گا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام بالخصوص نوجوانوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم سے بڑھ کر کوئی مستحکم بنیاد نہیں ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے پروفیسر اوریئل براؤن نے کہا کہ چین اور امریکہ کے رہنماؤں کے درمیان یہ اتفاق رائے طے پایا ہے کہ دونوں ممالک کو تنازعات سے گریز کرنا چاہیے۔ ہم توقع کر سکتے ہیں کہ چین اور امریکہ اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف جوہانسبرگ میں انسٹی ٹیوٹ فار دی فیوچر آف نالج کے ڈائریکٹر آرتھر جی او موتامبارا نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعاون بہت اہم ہے۔ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے بہت سے شعبوں میں مشترکہ مفادات موجود ہیں۔