گوانگ ژو (شِنہوا) رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (آر ای اے پی) کے ایک وفد نے حال ہی میں چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہروں گوانگ ژو اور شین زین کا دورہ کیا، جہاں کاروباری ملاقاتوں کے دوران بڑے چینی خریداروں کے ساتھ مجموعی طور پر 60 ہزار ٹن پاکستانی چاول کی خریداری کے معاہدے کئے گئے۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اناج کی تجارت میں تیزی سے اضافے کے باعث ہوا ۔ چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے 7 ماہ کے دوران پاکستان کی چین کو چاول کی برآمدات 12 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 200 فیصد زیادہ ہیں۔صوبائی سطح پر گوانگ ڈونگ پاکستانی چاول کی درآمد میں سب سے آگے رہا، جہاں درآمدات کی مالیت 4 کروڑ 16 لاکھ 40 ہزار ڈالر رہی جو ملک کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 34 فیصد ہے۔ اس کے بعد بیجنگ، جیانگ شی اور جیانگسو کا نمبر رہا۔آر ای اے پی کے سینئر نائب چیئرمین محمد جاوید گیلانی کی قیادت میں وفد نے دونوں شہروں میں چاول کے بڑے چینی درآمد کنندگان، علاقائی تقسیم کاروں اور اناج و خوردنی تیل کی تجارت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری ملاقاتیں کیں۔ گوانگ ژو اور شین زین چین میں اناج کی درآمد کے اہم مراکز ہیں۔پاکستانی وفد نے چاول کی مختلف اقسام پیش کیں، جن میں اعلیٰ معیار کا خوشبودار باسمتی چاول اور روایتی لمبے دانے والا چاول شامل تھا۔ دونوں جانب سے طویل مدتی فراہمی، تجارت کا حجم بڑھانے اور کاروباری تعلقات مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔جاوید گیلانی نے 60 ہزار ٹن کے آرڈر کو آر ای اے پی کے دورہ چین کا اہم نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے چاول کے شعبے کے لئے اہم ترین تزویراتی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ باقاعدہ کاروباری رابطوں سے چین کو پاکستانی چاول کی برآمدات بڑھانے اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔آر ای اے پی کے سابق چیئرمین رفیق سلیمان نے کہا کہ پاکستانی چاول نے چینی منڈی میں اپنے معیار، منفرد خوشبو اور مناسب قیمت کے باعث اچھی ساکھ بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلب اور رسد کے درمیان مسلسل رابطے سے پاکستانی برآمد کنندگان کو چاول کی عالمی منڈی میں اپنا حصہ بڑھانے میں مدد ملے گی۔جولائی کے اواخر میں گوانگ ژو میں پاکستان اور گوانگ ڈونگ کے درمیان اناج کے حوالے سے بی ٹو بی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا مشترکہ اہتمام گوانگ ژو میں پاکستانی قونصل جنرل اور گوانگ ژو انٹرنیشنل کوآپریشن سنٹر نے کیا۔کانفرنس میں پاکستان کے بڑے اناج برآمد کنندگان اور چین کے جنوبی علاقے میں کام کرنے والے اناج کے درآمد کنندگان و پروسیسنگ کمپنیوں نے شرکت کی۔ اس تقریب نے پاکستانی فراہم کنندگان اور چینی خریداروں کو براہ راست ملانے اور عملی تجارتی معاہدوں میں سہولت فراہم کرنے کے لئے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا۔گوانگ ژو میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے تجارت و سرمایہ کاری کے مشیر محمد عمران نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت کے دوران زرعی تجارت دونوں ملکوں کے تعاون میں ترقی کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوانگ ڈونگ چین میں اناج کی درآمد کا ایک بڑا مرکز ہے، اس لئے پاکستان اس کاروباری رابطہ کانفرنس کے ذریعے چین کی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط اور زرعی تجارت میں اضافے کے فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔کانفرنس میں پاکستان کے چاول، تل اور مکئی کے شعبے سے وابستہ کل 15 بڑے برآمد کنندگان نے شرکت کی۔ یہ تمام کمپنیاں چین کو برآمد کرنے کے لئے مطلوبہ اہلیت رکھتی ہیں اور بڑی مقدار میں مصنوعات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ چینی شرکاء میں اناج اور خوردنی تیل کے درآمد کنندگان، خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں اور جانوروں کی خوراک بنانے والے ادارے شامل تھے۔ بند کمرے میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کے بعد کئی کمپنیوں نے ابتدائی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے۔ آئندہ مراحل میں نمونوں کی جانچ اور فیکٹریوں کے معائنے کے بعد باقاعدہ تجارتی شراکت داری قائم کی جائے گی۔چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آن لائن خریداری کی منڈی میں بھی پاکستانی چاول کی مانگ نظر آ رہی ہے۔ چین کے بڑے آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز میں شامل جے ڈی ڈاٹ کام پر پاکستانی چاول کی کئی مصنوعات، جن میں باسمتی سفید چاول بھی شامل ہیں، کی فروخت 10 ہزار آرڈرز سے تجاوز کر چکی ہے۔سفید باسمتی چاول کے 5 کلوگرام تھیلے کی قیمت 109 یوآن (تقریباً 15 امریکی ڈالر) ہے۔ ایک چینی خریدار نے کہا کہ پاکستانی چاول بہت مزیدار ہے، یہ سویا ساس والے فرائیڈ رائس کے لئے بہترین ہے اور اس کا ہر دانہ الگ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے میں گھر میں سویا ساس فرائیڈ رائس بنانے میں ناکام رہتا تھا لیکن ایک دوست نے پاکستانی چاول استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور اس بار یہ کامیاب رہا۔