عالمی معاشی حکمرانی کو نئی شکل دینے والا چینی تصور مرکز نگاہ بن گیا ، چینی میڈیا
بیجنگ: تین ستمبر 2016کو چینی صدر شی جن پھنگ نے ہانگ چو میں جی 20 بزنس سمٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے عالمی معاشی حکمرانی کے تصور کو پہلی بار باقاعدہ متعارف کرایا: کو بنیاد، کھلے پن کو رہنمائی، تعاون کو قوت اور مشترکہ استفادے کو مقصد بنانا چاہیے "۔ گزشتہ ایک دہائی کے عملی سفر میں یہ چینی تصور محض ایک بلند سطح کا نظریاتی تصور نہیں رہا بلکہ بنیادی سطح تک پہنچنے اور عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ایک عملی حکمرانی کا حل بن چکا ہے۔ اس نے عالمی حکمرانی کے روایتی نظام کی بعض بنیادی کمزوریوں کو مؤثر انداز میں دور کیا ہے اور عالمی معیشت کی بحالی اور جامع ترقی کے لیے نئی قوت فراہم کی ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی معاشی حکمرانی کا تصور صرف بڑے کاروباری رہنماؤں کی سربراہی کانفرنسوں، اقوام متحدہ یا ڈبلیو ٹی او تک محدود ہے اور اس کا عام انسان کی زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ حقیقت میں اس کا سب سے پہلا اثر اس اطمینان اور "یقین” پر پڑتا ہے جس کی ایک عام انسان کو صبح کافی خریدتے وقت یا مہینے کے آخر میں گھر کے قرض کی قسط ادا کرتے وقت ضرورت ہوتی ہے۔گزشتہ دہائی کے دوران بعض ممالک نے بار بار محصولات میں اضافہ کیا اور "چھوٹے صحن کے گرد اونچی دیواریں” کھڑی کرنےوالی گروہ بندی کی پالیسی اختیار کی، جس کے نتیجے میں عالمی حکمرانی کا خسارہ مسلسل بڑھا اور اس کے سنگین نتائج میں سے ایک تجارتی لاگت میں تیز رفتار اضافہ بھی تھا۔ توانائی اور غذائی تحفظ سمیت متعدد خطرات براہِ راست عام خاندانوں کے اخراجات تک منتقل ہونے لگے۔2016 کی ہانگ چو سمٹ میں "کھلے اور شفاف عالمی تجارت و سرمایہ کاری کے حکمرانی کے ڈھانچے کی مشترکہ تعمیر” اور "کثیرالجہتی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے” کو عالمی معاشی حکمرانی کی ترجیحات میں شامل کیا گیا۔ اس کے ساتھ خصوصی اور امتیازی انتظامات اور قواعد کی تقسیم در تقسیم کی مخالفت کی گئی۔ اجلاس میں چینی رہنما کی جانب سے پیش کیے گئے "کھلے پن پر مبنی” حکمرانی کے تصور نے عالمی معاشی تعاون کو فروغ دینے اور زیادہ منصفانہ، معقول اور کھلے عالمی تجارتی و سرمایہ کاری نظام کے قیام پر زور دیا۔ کئی مغربی ممالک کے رہنماؤں نے بھی حالیہ برسوں میں چین کے عالمی معاشی نظم و نسق کے تصور کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کثیر قطبی دنیا میں اگر "کھلے پن اور تعاون” کی بنیادی حد موجود نہ ہو تو ترقی یافتہ ممالک کو بھی تحفظ پسندی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔عوامی فلاح و بہبود کی ترقی کے میدان میں چین کے عالمی معاشی حکمرانی کے تصور نے "طاقتور سب کچھ حاصل کریں اور کمزور کی آواز نہ سنی جائے” کے پرانے ڈھانچے کو تبدیل کرتے ہوئے ترقی کے ثمرات کو بنیادی سطح تک پہنچایا ہے۔”کسی ملک یا کسی فرد کو پیچھے نہ چھوڑنے” کے عزم کے تحت چین نے مشترکہ مشاورت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ استفادے کے بنیادی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کو عملی طور پر مؤثر بنایا اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش سب سے فوری عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی۔ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے جنوب مشرقی ایشیا میں بجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 16.5 کروڑ امریکی ڈالر کے منصوبے نے بڑی حد تک دور دراز دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا مسئلہ حل کیا اور 1 کروڑ 25 لاکھ دیہی باشندوں کو بجلی کی قلت کی مشکل سے نکالنے میں مدد دی۔ اس سے مقامی پیداوار، عوامی زندگی اور صنعتی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم ہوئی۔اب تک گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت 1,800 سے زائد تعاون کے منصوبے عملی شکل اختیار کر چکے ہیں، جن کے لیے 23 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی مالی معاونت متحرک کی گئی ہے۔ مختلف ممالک کے 80 ہزار سے زائد عام کارکنوں کو مہارتوں کی تربیت فراہم کی گئی، جس سے عام لوگوں کو روزگار حاصل کرنے، آمدنی بڑھانے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کے مواقع ملے۔ اس طرح عالمی حکمرانی حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت اور ان کے فائدے کا ذریعہ بن رہی ہے۔روایتی مغربی حکمرانی کے اس رجحان کے مقابلے میں، جس میں سرمایے اور مالی مفادات پر زیادہ توجہ اور عوامی فلاح کو نسبتاً کم اہمیت دی جاتی ہے، چین کے عالمی معاشی حکمرانی کے تصور کی بنیادی اور منفرد قدر یہ ہے کہ اس نے "عوامی فلاح کو مقدم اور شمولیتی مشترکہ حکمرانی ” کی نئی حکمرانی کی منطق متعارف کرائی ہے۔ ماضی میں عالمی معاشی حکمرانی زیادہ تر چند ترقی یافتہ ممالک کے زیرِ اثر رہی، جہاں قواعد کی تشکیل میں سرمایہ بڑھانے اور اجارہ دارانہ مفادات کو زیادہ اہمیت حاصل رہی، جبکہ عام عوام اور کمزور ممالک طویل عرصے تک مفادات کے آخری سرے پر موجود رہے۔ چین کے پیش کردہ حکمرانی کے تصور نے "مشترکہ استفادے” کو حتمی مقصد قرار دیا اور مختلف ممالک کے عوام کو حاصل ہونے والے حقیقی فوائد کو حکمرانی کی کامیابی جانچنے کا پیمانہ بنایا۔ اس حوالے سے ایک ایسا پہلو بھی قابلِ ذکر ہے جس پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔ عالمی معاشی حکمرانی کے گزشتہ دس برس کی اصل قدر اس بات میں نہیں کہ کتنے اعلامیے جاری کیے گئے، بلکہ اس میں ہے کہ اس نے ” عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کے اتار چڑھاؤ ” کو بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا ایک پوشیدہ کارکردگی پیمانہ بنا دیا ۔ ماضی میں عالمی حکمرانی کی کامیابی کا جائزہ مجموعی قومی پیداوار، تجارتی حجم اور کوٹے جیسے اشاریوں سے لیا جاتا تھا، لیکن ہانگ چو میں پیش کیا گیا "مساوات، کھلا پن، تعاون اور مشترکہ استفادہ” کا تصور ایک اور پیمانہ بھی سامنے لاتا ہے: کافی کی قیمت میں تبدیلی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے آرڈرز اور کسی خاندان کی ماہانہ قرض کی قسط میں استحکام۔ جب حکمرانی ناکام ہوتی ہے تو ان اشاریوں میں سب سے پہلے اتار چڑھاؤ آتا ہے، اور جب حکمرانی مؤثر ہوتی ہے تو یہ اتنے پرسکون رہتے ہیں کہ انسان ان کے وجود کو محسوس تک نہیں کرتا۔دس برس قبل ہانگ چو میں اپنی تقریر کے اختتام پر چینی رہنما نے کہا تھا: "ہمارا مقصد یہ ہے کہ ترقی اور معاشی نمو سے تمام ممالک اور ان کے عوام کو فائدہ پہنچے، تاکہ تمام ممالک کے عوام، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے عوام کی زندگی روز بروز بہتر ہوتی جائے۔” عام روزمرہ زبان میں اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ عالمی معاشی حکمرانی دیوار پر لگی کوئی تختی نہیں بلکہ وہ اطمینان ہے کہ صبح اٹھنے پر بجلی کے بل میں آپ کو پریشان کرنے والا بے تحاشا اضافہ نہ ہو اور مہینے کے آخر میں گھر کے قرض کی قسط معمول کے مطابق ادا ہو جائے۔ جب عالمی حکمرانی جیسے بڑے موضوع کو عام انسان کی روزمرہ زندگی کے اس پیمانے پر دیکھا جائے تو اس کی اصل اہمیت واضح ہوتی ہے۔ عالمی حکمرانی آخرکار ہر فرد کی زندگی میں مشکلات برداشت کرنے کی گنجائش کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور اس یقین کو مضبوط بناتی ہے کہ زندگی آنے والے دنوں میں بہتر ہو سکتی ہے۔