"قانونی تھیٹر” کا بھرم توڑو، درست اور ہدفی اقدامات سے چین-امریکہ تجارتی و معاشی باٹم لائن کی حفاظت کرو

0

بیجنگ : حال ہی میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ایک ہی بار 43 چینی اداروں کو "ویغور جبری مشقت کی روک تھام ایکٹ” کی فہرست میں شامل کر دیا، جس سے یہ فہرست ایک رات میں تیس فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔ اس کے جواب میں چین کی وزارت تجارت نے "غیرملکی پابندیوں کے خلاف قانون” کے تحت امریکہ پر متعدد جوابی اقدامات کا اعلان کیا اور ان امریکی اداروں کو جوابی فہرست میں ڈال دیا جنہوں نے طویل عرصے سے چین مخالف یکطرفہ پابندیوں میں معاونت کی تھی، اور چینی مارکیٹ میں ان کے مفادات کے رابطے منقطع کر دیئے گئے۔ان اقدامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ صرف انسانی حقوق کے نام پر ایک "قانونی تھیٹر” سجاتا ہے جبکہ چین اعتماد و انصاف کو پیمانہ بناتے ہوئے پُرزور جواب دیتا ہے اور عالمی تجارتی نظام میں طاقت کے بےجا استعمال کے خلاف ایک واضح سرخ لکیر کھینچتا ہے۔سب سے پہلے واضح کی جانے والی بنیادی حقیقت یہ ہے سنکیانگ  کے تمام نسلی گروہوں کے عوام کو قانون کے مطابق آزادانہ روزگار منتخب کرنے، معاوضہ حاصل کرنے سمیت مکمل حقوق حاصل ہیں۔ مقامی سطح پر روزگار  لوگوں کی مرضی کے مطابق ہے۔ خودساختہ "ویغور جبری مشقت” کا الزام دراصل بغیر کسی ثبوت کے ایک سیاسی  بیانیہ ہے۔ امریکہ  زمینی حقائق پیش نہیں کر سکا، اس لیے وہ صرف الزام تراشی اور ایک سیاسی بیانیے کو قانونی جواز فراہم کر کے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔جدید قانونی معاشرے میں "شک کی صورت میں بےگناہی” کا مرکزی اصول یہ ہے کہ جب تک ٹھوس ثبوت پیش نہ کیے جائیں تو فریق کو بےگناہ سمجھا جائے۔ مگر UFLPA نے یہ بنیادی اصول یکسر الٹ دیا، جہاں بھی کوئی کاروبار سنکیانگ سے جڑا ہو، اسے پہلے سے مجرم فرض کر لیا جاتا ہے، اور کاروباری اداروں کو خود اپنی بےگناہی ثابت کرنی پڑتی ہے تب جا کر الزام ختم ہوتا ہے۔اس تعلق کی حدود بھی واضح نہیں، تفصیلی معلومات شفاف انداز میں دستیاب نہیں اور مؤثر اپیل یا اس فہرست سے نکلنے کا واضح راستہ بھی نظر نہیں آتا۔ یوں پہلے سے مجرم تصور کرنے کا طریقہ قانون کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور قانون کے بنیادی اصول پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔UFLPA جنم لیتے ہی مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے والا انصاف کا پیمانہ نہ تھا،بلکہ ایک الٹے منطق والی، سیاسی مقاصد  کی آڑ میں یکطرفہ پابندیوں کی مشین ہے اور اس مضحکہ خیز  پابندیوں کے نظام کے پیچھے صرف امریکی حکومت نہیں بلکہ مختلف اداروں اور تنظیموں کا ایک پورا نیٹ ورک بھی کام کرتا ہے۔ اس بار چین کے جوابی اقدامات کی  فہرست میں جن اداروں کو شامل کیا گیا ہےان میں Applied DNA Sciences جیسا ادارہ شامل ہے، جو امریکہ میں چینی برآمدات کی جانچ پڑتال کے حوالے سے کام کرتا رہا اور سنکیانگ کی کپاس کی امریکہ درآمد کو "صفر” تک لے جانے کا دعوی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ Altana Technologies جیسا ادارہ جو اے آئی کے ذریعے چین کی صنعتی چین کی جانچ کرتاتھا اور امریکی کسٹمز کو بے جا کارروائیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا تھا، Verite Group جیسا ادارہ جو آن لائن مختلف مواد سے جعلی رپورٹیں تیار کرتا تھا، اور "Human Rights in China” جیسی چین مخالف تنظیمیں جو ویغور اور سنکیانگ سے متعلق مختلف موضوعات کو ہمیشہ ہوا دیتی رہیں۔یہ سب ادارے "سپلائی چین کی تعمیل اور ذمہ داری کی جانچ” کے نام پر امریکی یکطرفہ پابندیوں کو جعلی "ثبوت” مہیا کرتے اور مارکیٹ رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے ہیں۔ وہ ایک طرف چینی اداروں کے حقوق کو نقصان پہنچاتے ہیں تو دوسری جانب چینی مارکیٹ سے بلا خوف و خطر فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں، تو چین انہیں ان سب کی  اجازت کیسے دے سکتا ہے؟مزدوروں کے حقوق، انسانیت کا مشترکہ سنجیدہ  مسئلہ ہے۔ اختلافات کا حل غیرجانبدارانہ تحقیق اور مذاکرات ہیں ، نہ کہ یکطرفہ قانون سازی اور من مانی سزا دینے کی دھمکی۔چین ہمیشہ سے چین-امریکہ تجارتی و معاشی تعلقات کے استحکام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا آیا ہے۔ مگر خلوص اور اعتماد ہمیشہ دوطرفہ ہوتا ہے۔ اگر امریکہ اپنی ضد  میں آ کرنئی چین مخالف پابندیاں عائد کرتا رہا، تو چین کے جوابی اقدامات میں ابھی بہت کچھ باقی ہے، آنے والا جواب پہلے سے زیادہ   سخت اور بےرحم ہوگا۔قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ چین کا یہ جوابی اقدام ہمیشہ انتہائی تحمل اور برداشت کا عکاس رہا ہے۔اس اقدام میں نہ تو تمام امریکی کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا گیا، نہ ہی عام تجارتی تعاون کے دائرے کو نقصان پہنچایا گیا، بلکہ عمل اور ذمہ داری  کے متوازن اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ، صرف انہی اداروں کو فہرست میں شامل کیا گیا جو براہ راست چین کے جائز حقوق کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ یہ جوابی اقدام عام کاروباری سرگرمی اور یکطرفہ پابندیوں  کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچتا ہے۔ قانون کے مطابق کاروبار کرنے والے اداروں کے لیے دروازے کھلے ہیں، جبکہ یکطرفہ پابندیوں کے آلۂ کار بننے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کا مقصد محاذ آرائی کو بڑھانا نہیں بلکہ چین اور امریکہ کے سربراہان کی بوسان ملاقات میں طے پانے والے تعمیری اتفاقِ رائے کی سنجیدگی کو برقرار رکھنا ہے۔چینی روایتی ثقافت میں "عالی ظرف انسان” کی صفت دو الفاظ میں بیان کی جا سکتی ہے۔ خودکفیل ہونا اور وسیع القلبی سے ذمہ داری اٹھانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کمزور ہو تو بھی اس کا حوصلہ بلند رہنا چاہیے اور جب وہ مضبوط ہو جائے تو اسے تحمل، بردباری اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جب پہلے چین غریب اور کمزور تھا، تب بھی اس نے طاقت کے آگے سر نہیں جھکایا اور آج جب چین کے پاس ہر حریف کا سامنا کرنے کی طاقت  ہے، تب بھی وہ تحمل اور رحمدلی کی اپنی فطرت پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ ہدفی جوابی اقدامات، اصولی مؤقف پر قائم ہونے کے باوجود بےجا نقصان یا اندھی محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہیں کرتے اور یہی چین کا ” عالی ظرف  کا جوہر ” ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.