چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
بیجنگ :سلوواکیہ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے پہلے یورپی ممالک میں سے ایک ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی حمایت اور فعال طور پر اس میں حصہ لینے والے پہلے یورپی ممالک میں سے ایک بھی ہے۔ سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا اپنا پہلا سرکاری دورہ مکمل کیا۔ وہ سلواکیہ کی تاریخ میں صدر، وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دینے والے پہلے سیاست دان ہیں۔ چین کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا ،جس میں انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چین نے حالیہ برسوں میں ترقی کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ صدر پیلیگرینی نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے چین میں ہونے والی زبردست تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ چین نے ہارڈ ویئر کے بنیادی ڈھانچے اور سافٹ ویئر کے ساتھ ساتھ اپنے پانچ سالہ منصوبوں اور یہاں تک کہ طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں پر بہترین انداز میں عمل درآمد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلوواکیہ کی حکومت نے اب "سلوواک وژن 2040 کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے۔ امید ہے کہ اس طویل المدتی منصوبے سے سلوواکیہ کو ا پنے ترقیاتی اہداف کی تکمیل اور اگلی دہائی یا اس سے زیادہ عرصے میں ترقیاتی ترجیحات کو واضح کرنے میں مدد ملےگی۔ پیلیگرینی نے کہا کہ سلواکیہ چین تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ سلوواکیہ کی حکومت چین کے ساتھ اپنے تعاون کو بھرپور فروغ دے گی اور کاروباری ماحول کو مسلسل بہتر بنائےگی تاکہ مزید کمپنیوں کو سلواکیہ میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ صدر شی جن پھنگ کے اس وژن سے پوری طرح متفق ہیں کہ ہمیں ایک ایسا اے آئی گورننس سسٹم بنانا چاہیے جو صحیح معنوں میں پوری دنیا بشمول تیسری دنیا اور پسماندہ ممالک کی خدمت کرے ۔انہو ں نے کہا کہ ہمیں مصنوعی ذہانت کو ہر عمر کے افراد میں مقبول عام بنانا چاہیے تاکہ یہ حقیقی معنوں میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکے۔ سب سے اہم بات یہ کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حقوق کا تعین دنیا کے کسی ایک شخص یا کسی ایک ملک کی حکومت کو یکطرفہ طور پر نہیں کرنا چاہیے۔اس خصوصی انٹرویو میں صدر پیلیگرینی نے کہا کہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل چین کے اپنے پہلے دورے سے لے کر آج اپنی آنکھوں سے چین کی انفراسٹرکچر اور نقل حمل دونوں میں زبردست ترقی کو دیکھنے تک، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل مستفید ہونے کے قابل ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلوواکیہ چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور تجارت، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں میں مزید تعاون پر مبنی نتائج حاصل کرنے کا منتظر ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو بہتر طور پر فائدہ پہنچایا جا سکے۔