بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، چینی وزارت خارجہ
بیجنگ : چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے حالیہ علاقائی صورتحال اور چین آسیان تعلقات کے مستقبل کی ترقی پر صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں اطراف کے قائدین کی مشترکہ اسٹریٹجک قیادت میں چین اور آسیان کے تعاون کے شاندار ثمرات برآمد ہوئے ہیں۔ چین آسیان کے 8 ممالک کے ساتھ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے بارے میں اہم اتفاقِ رائے حاصل کر چکا ہے۔بحیرہ جنوبی چین علاقائی ممالک کا مشترکہ گھر ہے، اوربحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ چین اور آسیان ممالک کے پاس اس بات کی دانش اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے کو مناسب انداز میں سنبھال سکیں، تاکہ امن، استحکام، تعاون اور دوستی اس خطے کی نمایاں خصوصیات رہیں اور بحیرۂ جنوبی چین میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی باگ ڈور علاقائی ممالک کے اپنے ہاتھ میں رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین، آسیان ممالک کے ساتھ مل کر بیرونی مداخلت اور دیگر رکاوٹوں کو دور کرنے اور بحیرۂ جنوبی چین کے ضابطۂ عمل پر مذاکرات کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے۔