چین کا اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان
بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے شنگھائی کے شی جیاؤ ہوٹل میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، جو عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے چین میں موجود ہیں۔
جمعہ کے روزشی جن پھنگ نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے انتونیو گوتریس نے کثیرالجہتی نظام کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں عالمی حکمرانی کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت کی، جسے چین سراہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ کی طرح اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا اور عالمی امن و ترقی کے فروغ اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ چین نے ہمیشہ کثیرالجہتی کی حمایت کی ہے، اقوام متحدہ کے نصب العین اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا ہے، جس نے دنیا کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ چین کی جانب سے پیش کیے گئے اہم تصورات اور گلوبل انیشی ایٹوز قابل قدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ چین کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، یکطرفہ پسندی، تحفظ پسندی اور غنڈہ گردی کی مخالفت کرے گا، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کا تحفظ کرے گا، تاکہ عالمی کثیرالجہتی کے عمل کو فروغ دیا جائے اور عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کیا جائے۔