عملی افادیت ہی تکنیکی اختراع کے معیار کو جانچنے کا معیار ہے، چینی میڈیا

0

بیجنگ :سی ایم جی کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی ناظرین کے لیے کیے گئے ایک عوامی سروے کے مطابق 93.4 فیصد عالمی شرکاء کا ماننا ہے کہ چین کے پاس ایک نہایت وسیع مارکیٹ اور عملی اطلاق کے بھرپور مختلف مواقع موجود ہیں، جو جدید اختراعی ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینے اور اس کی آزمائش کے لیے ایک وسیع تجربہ گاہ فراہم کرتے ہیں۔اس وقت دنیا میں سائنسی و تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ سروے میں 86.9 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اختراعات جو بڑے پیمانے کی مارکیٹ کی حمایت سے محروم ہوں، اکثر حقیقی طلب، تجارتی منافع اور طویل المدتی جانچ پر پوری نہیں اترتیں۔ 88 فیصد شرکاء نے نشاندہی کی کہ ٹیکنالوجی صرف اس وقت حقیقی صنعتی ماحول میں اپنی مکمل صلاحیت دکھا سکتی ہے، جہاں وہ مارکیٹ کی پیچیدہ ضروریات، لاگت کے کنٹرول اور سپلائی چین کی ہم آہنگی جیسے عملی مسائل کا سامنا کرتی ہے اور مسلسل فیڈبیک کے ذریعے بہتر ہوتی رہتی ہے۔سروے میں 73.6 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ یہ جانچنے کا "اصل معیار ” کہ مصنوعی ذہانت کی کوئی اختراعی کامیابی کتنی مؤثر ہے، یہ ہے کہ وہ کم لاگت، وسیع پیمانے پر دستیابی اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ روزمرہ زندگی میں کتنی آسانی سے شامل ہو سکتی ہے۔ جبکہ 90.8 فیصد شرکاء نے واضح کیا کہ چین کی معیاری اور اعلیٰ معیار کی اقتصادی ترقی کا تصور دنیا کی مجموعی اقتصادی ترقی کے رجحان کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ سروےسی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا اور 24 گھنٹوں کے دوران 5913 عالمی شرکاء نے اس میں حصہ لے کر اپنی آراء کا اظہار کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.