پاک۔چین کہانیاں|پاکستانی طالب علم کی چین میں نینو ٹیکنالوجی کے حوالے سے شاندار پیشرفت

0


بیجنگ (شِنہوا) پاکستانی طالب علم ڈاکٹرعلی عمران نے چین میں تعلیم حاصل کرکے ٹیکنالوجیز کے میدان میں ایسی ایجادات کی ہیں جن کی بدولت وہ عالمی شناخت اور شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔چین میں کوانٹم ڈاٹ انٹرمیڈیٹ بینڈ سولر سیلز پر جد ید تحقیق میں منفرد پہچان حاصل کرنے والے ڈاکٹر علی عمران کی جد و جہد صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل شاہکوٹ سے شروع ہو ئی جو کہ اس وقت چین میں مختلف علمی تحقیقات میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔گز شتہ 12 سال سے چین میں تعلیم حاصل کر نے اور پیشہ ورانہ زندگی میں کا میابیاں حا صل کر نے والے علی عمران کا تعلیمی سفر ایسے سرکاری اسکول سے شروع ہوا جہاں انہیں اپنی فیس ایک روپیہ ما ہا نہ آج بھی یاد ہے۔انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کے حوالے سےگفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ان کی ابتدائی تعلیم پا کستان میں ایسے تعلیمی اداروں سے شروع ہو ئی جہاں جد ید کلاس رومز ، لیبارٹریوں اور ٹیکنالوجی تک ر سائی میں کمی کا سامنا تھا۔انہوں نے پاکستان میں الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر فزکس میں بیچلرز اور ماسٹرز ڈگری مکمل کر تے ہو ئے ڈیجیٹل سسٹمز اور ڈیوائس فزکس میں اپنے تعلیمی تصورات کو بہتر بنایا۔ اس دوران کے ڈیجیٹل گھڑیوں، سیمی کنڈکٹر ڈیوائسز، نینو ٹیکنالوجی کے حوالے سے پرا جیکٹس ان کے مستقبل کے منصوبوں کی بنیاد بنتے گئے۔انہوں نے بتا یا کہ پا کستان میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو نے کے دوران انہیں احساس ہوا کہ ان کا علم حاصل کرنے کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اسے جاری رہنا چا ہئے۔ تدریس نے نہ صرف ان کے تعلیم کے حوالے سے سیکھنے کے عمل کو بہتر بنایا بلکہ انھیں سوچ اور مقصد کی وضاحت بھی دی۔پی ایچ ڈی کے بعد انہوں نے اپنی تحقیق کا سفر چین کی صف اول کی پیکنگ یونیورسٹی میں بطور پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر جاری رکھا جو کہ 2018 میں شروع ہو کر 2020 میں مکمل ہوا۔ یہاں ان کی تحقیق کا رخ جدید میٹریلز کی گروتھ اور ان کے تجزیے پر مبنی تھا، اس دوران انہوں نے مالیکیولر بیم ایپیٹیکسی کے ذریعے ایٹمی سطح پر کام کیا جو ان کے تعلیمی کیر ئیر میں شاندار تجر بہ رہا، انہیں آ ج بھی لیبارٹری میں گزاری طویل راتی۔اس وقت ڈاکٹر علی عمران گوانگژو میں نیشنل نینو ٹیک انوویشن سینٹر میں ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں وہ بڑے پیمانے پر صنعتی جدت کی قیادت کر رہے ہیں۔ چین میں ایک دہائی سے زائد وقت گزارنے کے بعد انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت میں چین کی غیر معمولی ترقی کو قریب سے دیکھا ہے۔ ا ن کے مطابق چین کی ترقی طویل المدتی وژن، مضبوط انفراسٹرکچر ، تحقیق اور صنعت کے مضبوط تعلق کا نتیجہ ہے جہاں سائنسی تصورات تیزی سے عملی ٹیکنالوجی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔چین کے تعلیمی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ اس کی عملی تعلیم، جدید تحقیقی سہولیات اور جدت پر مبنی تربیت کو سراہتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ چین میں پاکستانی پروفیشنلز کو درپیش چیلنجز جیسے زبان اور ثقافتی فرق کو بھی بیان کرتے ہیں جس پر قابو پا نا مشکل نہیں ہے۔ ڈاکٹر علمی عمرن کا یقین ہے کہ مخنتی لو گوں کے لیے چین میں ترقی، سیکھنے اور عالمی تجربہ حاصل کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں ڈیپ الٹرا وائلٹ سینسنگ ٹیکنالوجی، نیورومورفک وژن سینسرز، ذہین با ئیو سینسرز اور متعدد پیٹنٹ شدہ ڈیوائسز شامل ہیں۔ اپنی عالمی کامیابیوں کے باوجود ڈاکٹر علمی عمران کی سوچ ہمیشہ پا کستان سے جڑی رہی ہے۔ وہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر، تحقیقی تعاون اور انڈسٹری پر مبنی جدت کے ذریعے پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ پاکستان میں سیمی کنڈکٹر اور نینو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ تحقیقی مراکز کے قیام کو انتہائی ضروری قرار دیتے ہیں جہاں مقامی جامعات، صنعت اور بین الاقوامی ادارے مل کر کام کریں۔ ان کے مطابق اگر جدید تحقیق کو صنعت سے جوڑا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی ٹیکنالوجی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی جگہ بنا سکتا ہے۔مزید برآں وہ نوجوان سائنسدانوں اور طلبا کے لیے تربیتی پروگرامز، اسکالرشپس اور ایکسچینج پروگرامز کے فروغ پر زور دیتے ہیں تاکہ پاکستانی طلبا کو جدید لیبارٹریز اور عالمی معیار کی تحقیق تک رسائی حاصل ہو سکے۔ ان کا یقین ہے کہ اگر پاکستان چین جیسے ممالک کے ساتھ سائنسی تعاون کو مضبوط بنائے تو ٹیکنالوجی کی منتقلی تیز ہو سکتی ہے اور مقامی صنعت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ان کے نزدیک پاکستان میں انڈسٹری اور تعلیمی شعبے کے درمیان خلا کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر تحقیقی ادارے اپنی توجہ حقیقی مسائل جیسے توانائی، صحت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مرکوز کریں تو نہ صرف معیشت مضبوط ہو گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تحقیق و ترقی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائے اور سائنسدانوں کو ایسا ماحول فراہم کرے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.