جنوبی بحیرہ چین کی سلامتی کی حفاظت اور خوشحالی کا فروغ: سانیا میں "سمندر کو سننا اور جوار دیکھنا” کے موضوع پر سیمینارکا انعقاد
بیجنگ :چائنا میڈیا گروپ کے زیر اہتمام "سمندر کو سننا اور جوار دیکھنا” کے موضوع پر ایک موضوعاتی سیمینار چائنا میڈیا گروپ کے سانیا بیس میں منعقد ہوا۔ یہاں چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی) کی "بحیرہ جنوبی چین ریسرچ ایکسپرٹس کمیٹی” سے تعلق رکھنے والے چینی اور غیر ملکی ماہرین نے بحیرہ جنوبی چین کی گورننس، تعاون اور علاقائی سلامتی جیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ اتفاق رائے کو مضبوط کیا جائے، بیرونی مداخلتوں کو ختم کیا جائے، اور بحیرہ جنوبی چین میں امن و خوشحالی کے تحفظ اور فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔اجلاس میں شریک ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ بحیرہ جنوبی چین کی مجموعی صورتحال مستحکم ہے، تاہم خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت اب بھی علاقائی سلامتی کے خطرات کو بڑھانے کا سب سے اہم عنصر ہیں۔ حالیہ عرصے میں بعض بیرونی طاقتوں کی جانب سے عسکری اور سلامتی کے شعبے میں خطرناک اقدامات، اور فلپائن کے ساتھ تیز رفتاری سے عسکری تعاون میں اضافہ، دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام کے لیے شدید خطرہ ہیں، جس پر خطے کے ممالک کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے سابق نمائندہ برائے سرحدی و بحری امور، چو جیان کا کہنا ہے کہ کئی سالوں سے امریکہ نے دیگر غیر علاقائی ممالک کو ساتھ ملا کر "آزادانہ بحری آمد و رفت” کے نام پر جنوبی بحیرہ چین میں فساد برپا کیا ہوا ہے اور نام نہاد "جنوبی بحیرہ چین ثالثی فیصلے” کو مسلسل تقویت فراہم کرتا رہا ہے۔ان کے مطابق بعض بیرونی قوتیں فلپائن کے ساتھ مل کر مشرقی بحیرہ چین، آبنائے تائیوان اور جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی پیدا کر نے اور بحر الکاہل کے خطے کے امن و استحکام میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔