چین کا سرزمینوں کو جوڑتا، فطرت بانٹتا حیاتیاتی نظام: ایک پاکستانی نوجوان کے حیرت انگیز مشاہدات
شانگ راؤ (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے شہر شانگ راؤ میں ایک تیز رفتار کشتی دریائے شن کا سینہ چیرتی ہوئی گزر رہی تھی۔ پانی کی سطح سے درجنوں سیاہ دھاریوں والے ہنس اڑ کر کشتی کے ساتھ ساتھ اڑنے لگے۔ کشتی پر ایک نوجوان پاکستانی ڈاکٹریٹ کے طالب علم حنان احمد انجم کھڑے تھے۔ انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ ایک ہنس کشتی کے کنارے سے چھوتا ہوا گزرا اور آرام سے ان کی ہتھیلی پر آ بیٹھا۔حنان نے کہا کہ "یہ بالکل بھی نہیں ڈرتے۔یہ خوبصورت منظر دریائےشن کے ماحولیاتی راہداری پر دیکھا گیا جو کبھی ایک بنجر اور ویران سیلابی میدان تھا۔ برسوں کی بحالی کے کام کے بعد اب یہ ایک ایسا شہری ویٹ لینڈ پارک بن چکا ہے جہاں ماحولیاتی بحالی، جنگلی حیات کے مسکن اور تفریح کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ اسے تھری-اے سطح کا سیاحتی مقام قرار دیا گیا ہے، صوبائی سطح پر ماحولیاتی بحالی کا نمونہ نامزد کیا گیا ہے اور اس نے ورلڈ آرکیٹیکچر فیسٹیول (ڈبلیو اے ایف)میں ایوارڈ بھی جیتا ہے۔شانگ راؤ زرعی، ثقافتی، سیاحتی اور ترقیاتی گروپ کے ڈپٹی جنرل منیجر فانگ جیان چھنگ نے بتایا کہ "ہم نے ہمیشہ ماحولیات کو ترجیح دی ہے۔ اب یہاں بطخیں، راج ہنس، خاکستری ہنس اور سوان گیز غول کے غول جمع ہوتے ہیں۔ دریا کا ماحولیاتی نظام بظاہر بہتر ہو رہا ہے۔حنان نان چھانگ یونیورسٹی میں ماحولیاتی انجینئرنگ کے پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ وہ 2سال سے زیادہ عرصہ قبل چین آئے تھے اور ان کی توجہ پانی کی آلودگی پر قابو پانے اور ماحولیاتی بحالی پر مرکوز ہے۔ اس راہداری پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک خاص بات محسوس کی یہاں کوئی سخت باڑ یا رکاوٹیں نہیں تھیں۔ جانور اور انسان قدرتی طور پر ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔جنگلاتی علاقے میں سارس، چیتل ہرن اور مور آزادانہ گھوم رہے تھے۔ اسی گروپ کی ایک ملازم وانگ ینگ نے بتایا کہ "ہم نے ایک کھلا قدرتی ماحول تیار کیا ہے جہاں انسان اور جنگلی حیات مکمل ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔دریاکے کنارے کھڑے ہو کر حنان پانی کے نیچے موجود پودوں کو صاف دیکھ سکتے تھے۔ یہ پودے نائٹروجن اور فاسفورس کو جذب کرتے ہیں، آکسیجن چھوڑتے ہیں اور مچھلیوں اور جھینگوں کو پناہ دیتے ہیں۔ یہ مچھلیاں اور جھینگے آبی پرندوں کی خوراک بنتے ہیں اور پرندوں کا فضلہ جسے جراثیم تحلیل کرتے ہیں، دوبارہ پودوں کو غذائیت فراہم کرتا ہے، یہ ایک مکمل آبی ماحولیاتی چکر ہے۔ یہ ویٹ لینڈ ایک اسفنج کی طرح بھی کام کرتا ہے، بارش کا پانی اس ویٹ لینڈ سے فلٹر ہو کر آہستہ آہستہ دریا میں شامل ہوتا ہے جو برسات کے موسم میں پانی کا ذخیرہ کرتا ہے اور خشک موسم میں اسے چھوڑتا ہے۔حنان نے کہا کہ ایسے "زیر آب جنگلات” ماحولیاتی بحالی کی ایک جدید اور پختہ تکنیک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اس کا اصل مقصد پانی کے اندر خوراک کے جال کو دوبارہ بنانا اور پانی کی خود کو صاف کرنے کی صلاحیت کو بحال کرنا ہے۔” اگرچہ پاکستان میں ابھی یہ طریقہ کار بہت کم ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ اس ماحولیاتی ماڈل کو وہاں کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ "میں اپنے کھینچے ہوئے فوٹوز اور ویڈیوز واپس لے کر جاؤں گا تاکہ لوگوں کو دکھا سکوں کہ ایک دریا کو کس طرح بحال کیا جا سکتا ہے اور ایک بنجر میدان کو انسانوں اور جانوروں کے لئے ایک مشترکہ جگہ میں کیسے بدلا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ راہداری کس طرح ماحولیات اور معیشت کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہے۔ ویٹ لینڈ کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دے سکتا ہے جس سے ماحول کا تحفظ مالی بوجھ بننے کے بجائے خود کفیل ماحول دوست معاشی ذریعہ بن جاتا ہے۔شام کے وقت دریائے شن سنہری رنگ میں چمک رہاتھا۔ ہنس واپس سرکنڈوں کی طرف اڑ گئے۔ حنان نے کہا کہ "چین میں ماحولیاتی بحالی کا مطلب صرف ماحول کو ٹھیک کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد انسان اور فطرت کے رشتے کو بحال کرنا ہے۔ جب جنگلی جانور انسانوں پر بھروسہ کرنے لگیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی نظام واقعی ٹھیک ہو رہا ہے۔سال 2026 چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کا سال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی ڈھانچے، توانائی اور زراعت میں گہرا تعاون موجود ہے اور اب ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع پر بھی ان کے تبادلے بڑھ رہے ہیں۔ حنان کا یہ دورہ نوجوان نسلوں کے درمیان ایک دوسرے سے سیکھنے کی ایک روشن مثال ہے۔ وہ ویٹ لینڈ کی بحالی اور پانی کے ماحول کے انتظام میں تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کی امید رکھتے ہیں۔ "تمام جانداروں کا تحفظ کرنے کے لئے پہاڑوں اور سمندروں کو پار کرنے اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنے کی ضرورت ہے۔”