چھانگ چھون (شِنہوا) پاکستان کی کمپنی ‘ایم پیک’ کے سربراہ عمران نے کہا ہے کہ "مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے قطع نظر چینی کمپنیوں پر ہمارا اعتماد کبھی متزلزل نہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ ہماری ضروریات پر فوری ردعمل دیتے ہیں اور مارکیٹ کے مطابق تیار کردہ اعلیٰ معیار کی مصنوعات فراہم کرتے ہیں۔ یہی چیز ہمارے مسلسل بڑھتے ہوئے تعاون کی بنیاد بن چکی ہے۔”
حالیہ برسوں میں جی لین کیمیکل فائبر گروپ اور اس کے پاکستانی شراکت داروں کے مابین مصنوعی ریشم کے شعبے میں تعاون مزید گہرا ہوا ہے اور کاروباری حجم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امید ہے کہ اس سال فروخت 10 ہزار ٹن سے تجاوز کر جائے گی، جس سے یہ شراکت داری چین اور پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبوں کے مابین صنعتی تعاون کی ایک نمایاں مثال بن جائے گی۔
یہ سرحد پار شراکت داری 2010 کے شنگھائی یارن ایکسپو سے شروع ہوئی تھی جہاں جی لین کیمیکل فائبر کی ریون مصنوعات نے اپنے مستحکم معیار اور ریشم جیسی نرم بناوٹ کی وجہ سے غیر ملکی خریداروں کو اپنی طرف راغب کیا۔ نمائش کے دوران کمپنی کی ٹیم کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے بعد عمران نے فوری طور پر تقریباً ایک ہزار ٹن کا ابتدائی تعاون کا معاہدہ کیا جس نے اس طویل مدتی شراکت داری کی بنیاد رکھی۔
ابتدائی مراحل میں دونوں فریقین نے باہمی دوروں، ویڈیو کانفرنسوں اور صارفین کے ساتھ باقاعدہ تبادلوں کے ذریعے باہمی اعتماد کو مضبوط کیا۔ ‘ایم پیک’ آہستہ آہستہ پاکستان میں جی لین کیمیکل فائبر کے اہم ایجنٹوں میں سے ایک بن گئی اور اس نے کمپنی کی کچھ مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اپنے مستحکم معیار اور نرم بناوٹ کی بدولت یہ مصنوعات جلد ہی اعلیٰ درجے کے بنے ہوئے کپڑوں اور کڑھائی کے دھاگوں میں استعمال ہونے لگیں اور پاکستانی صارفین سے داد وصول کی۔
جیسے جیسے تعاون بڑھا جی لین کیمیکل فائبر نے پاکستانی مارکیٹ کے لئے اپنی مصنوعات کی رینج کو مزید متنوع بنا دیا۔ ایجنسی کا حجم محض ایک ہزار ٹن سے بڑھ کر 4 ہزار ٹن تک پہنچ گیا۔ سال 2020 میں دونوں فریقین نے 9 ہزار ٹن سے زائد کی سالانہ فروخت حاصل کی جبکہ مارکیٹ شیئر بڑھ کر 47 فیصد تک پہنچ گیا جو کہ ایک بلند ریکارڈ تھا۔
جی لین کیمیکل فائبر گروپ کے سیلز سنٹر کے اسسٹنٹ منیجر سن حہ نے کہا کہ "پاکستان کے ساتھ ہمارا تعاون 15 سال سے جاری ہے اور مسلسل شاندار نتائج کے ساتھ مزید گہرا ہو رہا ہے۔”
حالیہ برسوں میں پاکستانی کلائنٹس کے وفود نے کمپنی کی جدید پروڈکشن لائنوں کا مشاہدہ کرنے کے لئے صوبہ جی لین کا دورہ کیا۔ تیز رفتار وائنڈنگ مشینوں سے سفید ریشوں کو تیزی سے گزرتے ہوئے دیکھنے اور خودکار روبوٹک سسٹمز کو انتہائی مہارت کے ساتھ ڈی ہائیڈریشن، پوسٹ پروسیسنگ اور پیکیجنگ مکمل کرتے ہوئے دیکھ کر بہت سے مہمانوں نے ان جدید ترین مینوفیکچرنگ سہولیات کی تعریف کی۔
پاکستانی گاہک حنیف نے کہا کہ "چینی کمپنیوں نے ریون کی پیداوار جیسی روایتی صنعتوں میں نئی جان ڈال دی ہے۔ ہم مستقبل کے تعاون کے بارے میں اب پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد ہیں۔”
یہ سال چین اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کا سال ہے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران دونوں ممالک نے لازوال تعلقات کو برقرار رکھا ہے اور عملی تعاون دوطرفہ تعلقات کا بنیادی مرکز رہا ہے۔
پاکستان کی اہم ترین صنعت اور بڑے برآمدی شعبے کے طور پر ٹیکسٹائل طویل عرصے سے پاک چین اقتصادی تعاون کا ایک اہم شعبہ رہا ہے۔ ابتدائی تجارتی تبادلوں سے لے کر پاک چین آزاد تجارت کے معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط اور اس کی اپ گریڈیشن تک ٹیرف میں کمی اور تجارتی سہولت کاری کے اقدامات نے دونوں ممالک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری چینز کے گہرے ملاپ کے لئے سازگار حالات پیدا کئے ہیں۔
دونوں کمپنیوں کے مابین 15 سالہ شراکت داری انفرادی سطح پر پاک چین اقتصادی تعلقات کی مضبوطی اور تسلسل کی عکاسی کرتی ہے۔ مارکیٹ کی طلب اور باہمی فائدے پر مبنی یہ تعاون پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے اعلیٰ معیار کا خام مال، جدید آلات اور تکنیکی مہارت لے کر آیا ہے جبکہ یہ دوطرفہ تعلقات کی پائیدار طاقت کا ایک واضح مظہر بھی ہے۔