امریکی کاروباری شخصیات چینی معیشت کے بارے میں پر امید
بیجنگ :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے سرکاری دورے کے دوران ان کے ہمراہ دس سے زائد بڑی امریکی کاروباری شخصیات بھی شامل رہیں ، جو ٹیکنالوجی، مالیات، ہوابازی، زراعت سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان شخصیات کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہان کی کامیاب ملاقات سے امریکہ اور چین کے تجارتی تعاون کو نئی طاقت ملی ہے اور وہ چین میں کاروبار کو مزید فروغ دینے، چین کے ساتھ تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان تفہیم اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے زیادہ کوششوں کے خواہشمند ہیں۔این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے کہا کہ چین دنیا کی سب سے شاندار اقتصادی قوتوں میں سے ایک ہے، جدت کے شعبے میں بہت زیادہ کامیاب ہے، اور ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی ایک اہم پیشرو ملک ہے۔ایپل کے سی ای او ٹم کک نے کہا کہ چینی مارکیٹ بہت مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ چینی عوام مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں بہت پر جوش ہیں اور انہیں خوش دلی سے قبول کرتے اور اپناتے ہیں ۔گولڈمین ساکس کے چیئرمین اور سی ای او ڈیوڈ سولو مون کے خیال میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے عملی نفاذ کے ساتھ، چین لازمی طور پر مزید بڑی کامیابیاں اور اعلی اقتصادی ترقی حاصل کرے گا۔امریکی کاروباری شخصیات نے انٹرویو میں کہا کہ وہ چینی مارکیٹ کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ جیسے جیسے چین کے دروازے اور زیادہ کھلیں گے، چین میں موجود امریکہ کے کاروباری اداروں کو مزید وسیع مواقع حاصل ہوں گے۔