جاپان کی عسکریت پسندی کے جارحانہ جرائم ناقابل تلافی ہیں ، چینی وزارت خارجہ

0

بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں ٹوکیو ٹرائل کے اسی برس مکمل ہونے کے موقع پر کتاب "فار ایسٹ انٹرنیشنل ملٹری ٹریبونل کے مقدمے کی کارروائی کے ریکارڈز کا مکمل ترجمہ” کے چین میں شائع ہو نے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی اشاعت اور ٹوکیو ٹرائل کے دوران امریکی نائب پراسیکیوٹر ڈیوڈ نیلسن سٹن کی ڈائری کے انکشافات سے ایک بار پھر ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کے فوجی جارحانہ جرائم کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان جرائم کے مضبوط ثبوت موجود ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اسی سال گزر چکے ہیں، لیکن جاپانی دائیں بازو کی قوتوں نے کبھی تاریخ پر غور و فکر نہیں کیا اور جارحیت پر مبنی جرائم کو جائز پیش کرتے ہوئے جاپانی معاشرے میں تاریخ کو مسخ کرنے اور غلط تصور کی ترویج کی بھر پور کوششیں کیں ۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کچھ سیاستدان اکثر "یاسوکونی شرائن ” پر حاضری دیتے ہیں جہاں دوسری جنگ عظیم کے جاپان کے اول درجے کے جنگی مجرموں کے یاد گاری کتبے ہیں ۔اس حاضری کا مقصد ٹوکیو ٹرائل کے تاریخی فیصلوں کو مسترد کر نا اور جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرنا ہے ۔ لین جیئن نے مزید کہا کہ دنیا کے تمام امن پسند لوگ کبھی کسی کو جارحیت پر مبنی جرائم کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے، اور جاپان کی "نئی عسکریت پسندی” کے اقدامات کی سختی سے مزاحمت کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.