ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ چین ،مشرق وسطیٰ میں چین کی اسٹریٹجک ثالثی کا مظہر ہے ، چینی میڈیا
بیجنگ : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین کا دورہ کیا اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔جمعرات کے روز چینی میڈیا کے مطابق رواں سال فروری کے اواخر میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے چین کا دورہ کیا ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال جنگ اور امن کے درمیان تبدیلی کے اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ یہ دورہ نہ صرف چین اور ایران کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی عملی مثال ہے، بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں چین کے انتہائی تعمیری کردار کو بھی واضح کرتا ہے، اور اس غیر مستحکم خطے میں امن کی امید تازہ کرتا ہے۔اس دورے کا وقت انتہائی اہم ہے اور اس کی جیوپولیٹیکل اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعے کی شدت اختیار کرنے کے بعد، خطے میں فوجی محاذ آرائی مسلسل جاری رہی؛ 8 اپریل کو فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، لیکن دیکھا جا سکتا ہے کہ امن کی بنیاد کمزور ہے اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔ ایک کلیدی علاقائی ملک کے طور پر، ایران نے اس وقت اپنے وزیر خارجہ کو چین بھیجنے کا انتخاب کیا، جس کی بنیادی ضروریات واضح ہیں: ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے چین کو آگاہ کرنا، چین کی سفارتی ثالثی کی حمایت حاصل کرنا، چین اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک اعتماد کو بروئے کار لاتے ہوئے بیرونی یکطرفہ دباؤ کا مقابلہ کرنا، اور چین کے عالمی اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرنا۔ یہ "ہنگامی سفارت کاری” دراصل چین کے غیر جانبدار اور منصفانہ موقف کے لئے ایران کے اعتماد کی توثیق ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے چین کی امن ثالثی کی صلاحیتوں سے وابستہ توقعات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔”اعتماد” چین اور ایران کے مذاکرات کی کلیدی بنیاد ہے، اور یہ اعتماد چین کے طویل عرصے سے اپنائے گئے منصفانہ موقف سے پیدا ہوا ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ "ایران چین پر بھروسہ کرتا ہے” اور صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے چار نکاتی اقدامات کی بھرپور ستائش کرتا ہے۔ بعض بڑی طاقتوں کے برعکس، جو مشرق وسطیٰ کے معاملات میں اپنے مفادات اور جانبدارانہ پالیسیوں کو ترجیح دیتی ہیں، چین ہمیشہ ریاستی خود مختاری اور برابری کے اصولوں پر قائم رہا ہے، تمام ممالک کے خود منتخب کردہ ترقیاتی راستوں کا احترام کرتا ہے، گروہی تصادم نہیں کرتا اور خطے میں ذاتی مفادات کے حصول کی پالیسی نہیں اپناتا۔ جنگ کے آغاز سے ہی چین مسلسل کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان ثالثی کے لیے سرگرم عمل ہے، وہ نہ صرف ایران کی خود مختاری اور وقار کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے، بلکہ اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو ایک بڑی طاقت کی اخلاقی ذمہ داری کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ "غیر جانبدار، اور امن کو مقدم سمجھنے والا” موقف چین کو مشرق وسطیٰ کے تمام فریقوں کی نظر میں تسلیم شدہ قابلِ اعتماد ثالث بناتا ہے۔دوسرا، چین کا پیش کردہ حل مشرق وسطیٰ کے بحران سے نکلنے کے لیے بنیادی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ بیجنگ میں منعقدہ دو طرفہ بات چیت میں چین نے واضح طور پر زور دیا کہ "جنگ کا مکمل خاتمہ ناقابلِ التوا ہے، جنگ دوبارہ شروع کرنا ناقابلِ قبول ہے، اور مذاکرات پر قائم رہنا خاص طور پر اہم ہے” ، یہ مؤقف موجودہ بحران کی بنیادی نوعیت کی درست نشاندہی کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی جڑوں پر توجہ دیتے ہوئے، صدر شی جن پھنگ نے چار نکاتی تجویز پیش کی ،یعنی امن و بقائے باہمی کے اصول پر قائم رہنا، قومی خود مختاری کے اصول پر قائم رہنا، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول پر قائم رہنا، اور ترقی اور سلامتی کے توازن پر قائم رہنا۔ اس اصولی حل نے "زیرو سم گیم” کے تصور کو ترک کرتے ہوئے خطے کے ممالک کی مشترکہ شرکت، مفادات کی شراکت داری اور ترقی کے ساتھ جیت جیت کے حامل سلامتی ڈھانچے کی وکالت کی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی راہ دکھاتا ہے۔چین اور ایران کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ کے تاریخی سنگ میل پر، وزیر خارجہ عراقچی کا یہ دورہ چین اور ایران کے دوطرفہ تعاون کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔ وقت کی آزمائش سے گزرنے والی چین اور ایران کی شراکت داری نے سیاست، تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شعبوں میں نمایاں نتائج دیے ہیں، اور کثیر الجہتی امور میں قریبی ہم آہنگی کی بدولت یکطرفہ پسندی اور بالادستی کا مقابلہ کیا ہے ۔ چین کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ثالثی کا مقصد کبھی بھی اثر و رسوخ کے دائرے کو توسیع دینا نہیں رہا، بلکہ خطے کے معاملات کو خطے کے ممالک کے ذریعے چلانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جو بعض بڑی طاقتوں کی بالادستی پر مبنی منطق سے واضح طور پر مختلف ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی سے لے کر خطے میں امن مذاکرات کی حوصلہ افزائی تک، چین مشرق وسطیٰ کے منظر نامے میں ایک لازمی مستحکم قوت بن چکا ہے۔مشرق وسطیٰ کا استحکام ہی دنیا کے امن کی ضمانت ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ چین، اس کے سفارتی اثر و رسوخ کے مسلسل بڑھنے کی عکاسی ہے، اور یہ یکطرفہ پسندی کے خلاف کثیر الجہتی کی زندہ مثال ہے۔ حالیہ دور میں، عالمی امن و سلامتی کے خسارے نمایاں ہو رہے ہیں، چین ہمیشہ تاریخ کے درست رخ پر کھڑا رہا ہے، اور عالمی نظم و نسق میں بہتری و اصلاحات کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ چین اور ایران کی اس شراکت داری سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کو تقویت ملتی ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی برادری کو اہم معاملات حل کرنے کے لیے "چینی فارمولا” بھی فراہم کرتا ہے۔ صرف خودمختاری کے احترام، مکالمے، مشاورت اور باہمی فائدے پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ہی سلامتی کے بحرانوں سے نکلا جا سکتا ہے اور مشترکہ ترقی و استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے، مشرق وسطیٰ بالآخر عدم استحکام کے دور سے نکل جائے گا، جبکہ چین امن کے لئے اپنے اصل مقصد پر قائم رہتے ہوئے عالمی امن و ترقی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔