جاپانی عسکریت پسندی کو جائز ثابت کرنے کی کوشش، یقیناً دوبارہ تاریخ اور انصاف کے کٹہرے آئے گی ، چینی میڈیا

0

ٹوکیو:3 مئی 1946 کو، ٹوکیو میں دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے اعلیٰ درجے کے مجرموں کے خلاف اجتماعی مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ نیورم برگ ٹرائلز کے بعد، یہ انسانی تاریخ میں تعاون سے کی جانے والی جنگی جرائم کی ایک بار پھر بڑے پیمانے پر سماعت تھی۔ ڈھائی سال تک جاری رہنے والی اس سماعت میں، 11 ممالک کے منصفوں اور پراسیکیوٹرز نے جاپان کی جانب سے شروع کی گئی جارحانہ جنگ کا جامع محاسبہ اور قانونی بازپرس کی، مضبوط ثبوتوں کے ذریعے جاپانی مجرموں کے جرائم کو ثابت کیا، اور آخر کار تمام 25 ملزمان کو قصوروار قرار دیا گیا، جن میں سے ہیدیکی توجو، ایرا سنی میتسوئی سمیت 7 ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور یوں جاپانی عسکریت پسندی کو ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ایک شرم ناک مقام پر کھڑا کر دیا گیا!80 سال گزر گئے ہیں، اور ان 80 سالوں میں بین الاقوامی صورتحال میں گہری تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ آج دوسری جنگ عظیم کے نتائج کی تردید کرنے والا غلط تاریخی نقطہ نظر دوبارہ ابھر رہا ہے، اور جاپان کی "نئی قسم کی عسکریت پسندی” ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں، چین سمیت متعدد ممالک کی طرف سے یادگاری تقریبات کا ایک سلسلہ منعقد کیا گیا ، جس کا مقصد ٹوکیو ٹرائل کی تاریخی اہمیت کا اعادہ اور جاپانی عسکریت پسندی کو دوبارہ زندہ ہونے کی ہرگز اجازت نہ دینا ہے۔ایک وسیع تر تاریخی تناظر سے دیکھا جائے تو ٹوکیو ٹرائل، "قاہرہ اعلامیہ” اور "پوٹسڈیم اعلامیہ” کی مقرر کردہ دفعات کا عملی نفاذ ہے، جو فاتح ممالک اور متاثرین کی اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، دوسری جنگ عظیم کی فتح کے نتائج کی حفاظت کرتا ہے، اور بعد از جنگ پرامن بین الاقوامی نظم اور بین الاقوامی انصاف و مساوات کے تحفظ کے لیے اہم قانونی اور سیاسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ٹوکیو ٹرائل کے تاریخی فیصلے میں رد و بدل کی کوئی گنجائش نہیں، اور بعد از جنگ بین الاقوامی نظم کی بنیاد کو ہلانا ناممکن ہے۔ آج 80 سال بعد، جاپان کی "نئی قسم کی عسکریت پسندی” کے سامنے ، بین الاقوامی برادری کو سخت جوابی کارروائی کرنی چاہیے اور پر عزم ہو کر دوسری جنگ عظیم کے نتائج کی حفاظت کرنی چاہیے اور یہ باور کروانا چاہئیے کہ کوئی بھی قوت یا شخص اگر جارحیت کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرے گا، تو یقیناً اسے دوبارہ تاریخ اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا!


Leave A Reply

Your email address will not be published.