بیجنگ :چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیئن نے معمول کی پریس کانفرنس کی۔ امریکی حکومت کی جانب سے "مصنوعی ذہانت کے مواقع کی شراکت داری کے مشترکہ اعلامیے” پر دیگر ممالک سے مشترکہ دستخط کی درخواست کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پوری انسانیت کی مشترکہ ذہانت کا ثمر اور ایک قیمتی اثاثہ ہے۔عالمی برادری مصنوعی ذہانت کے شعبے میں وسیع پیمانے پر تعاون کی خواہاں ہے، جبکہ تمام ممالک کو اپنے قومی حالات اور ترقیاتی ضروریات کے مطابق شراکت داروں کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے۔ترجمان نے کہا کہ چین مصنوعی ذہانت کے معاملے پر گروہی صف بندی اور کیمپ محاذ آرائی کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ تمام فریقوں کو "زیرو سم ذہنیت” ترک کر کے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے ، تمام ممالک کی ڈیجیٹل خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے اور مشترکہ طور پر منصفانہ اور منطقی عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی کا نظام تشکیل دینا چاہیے، تاکہ مصنوعی ذہانت مشترکہ خوش حالی کے فروغ اور مشترکہ سلامتی کے تحفظ کے لیے اہم محرک بن سکے۔