حالیہ دنوں ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے جواب میں واضح طور پر کہا، "چین بہت شاندار ہے، میں سب کو پرزور مشورہ دیتا ہوں کہ چین جا کر دیکھیں۔‘‘
اس کے بعد ان کی والدہ مائے مسک نے بھی ان کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ چین کے ہر شہر کی اپنی کشش ہے اور مختلف ثقافتی مقامات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ عمارتیں اور سڑکیں صاف ستھری ہیں اور ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ لوگ شائستہ، محنتی اور ایک دوسرے کا احترام کرنے والے ہیں۔انہوں نے خاص طور پر کہا، "میں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں، اسی لیے چین کا سفر بہت پسند ہے۔”
مائے مسک نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ وہ”تقریباً ہر ماہ” چین آتی ہیں اور چین ہر بار ان پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔اس سے قبل ایک انٹرویو میں ایلون مسک نے چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ترقی کو بھی سراہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں”مستقبل میں کسی وقت” عالمی قیادت سنبھالنے کا قوی امکان رکھتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ چین کی بجلی کی پیداواری صلاحیت امریکہ سے کہیں زیادہ ہے اور چین کے پاس روبوٹس کی بھی مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیت موجود ہے۔