طب کے شعبے سے وابستہ پاکستان کی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ فاؤ کو دنیا سے رخصت ہوئے 9 برس بیت گئے۔
پاکستان میں جذام کے مریضوں کی ماں جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، ڈاکٹر رتھ فاؤ 8 مارچ 1960 میں پہلی بار پاکستان آئیں، اس وقت جب پاکستان میں کوڑھ کے مریض کو اچھوت سمجھا جاتا تھا، ایسے وقت میں جرمنی سے تعلق رکھنے والی اس خاتون ڈاکٹر نے جذام کے پاکستان سے خاتمے کیلئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی۔
کراچی کے علاقے صدر میں ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ کی بنیاد رکھی، انہوں نے اپنی تمام تر محبت ان مریضوں کو دی جنہیں ان کے اپنے بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
پی پی آئی کے مطابق ڈاکٹر رتھ فاؤ کی شب و روز کوششوں کے نتیجے میں عالمی ادارہ صحت نے 1996 میں پاکستان کو کوڑھ کے مرض سے پاک ملک قرار دے دیا، اس موقع پر سول ہسپتال کے ایم ایس نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے ایک لائبریری قائم کرنے کا اعلان کیا۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پاکستان میں ستارہ قائد اعظم اور ستارہ ہلال ایوارڈ سے نوازا گیا، ان کا انتقال 10 اگست 2017 کو کراچی میں ہوا، ڈاکٹر رتھ فاؤ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور سول ہسپتال کراچی کو ان سے موسوم کیا گیا۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ کی آخری خواہش! ڈاکٹر روتھ فاؤ نے موت سے قبل اپنی تین خواہشات1 کا اظہار کیا تھا کہ اس کا علاج کسی صورت وینٹی لیٹر پر نہیں کیا جائے گا۔ یہ کہ جب وہ مرجائے تو اس کی میت کو لپریسی سینٹر لایا جائے
اس کی یہ دو خواہشات پوری کی گئیں، میت لپریسی سینٹر آئی تو سب کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی آخری خواہش یہ تھی کہ اسے عروسی لباس میں دفن کیا جائے۔ وہ سرخ جوڑا پہن کر تابوت میں لیٹی تو جہان کا سکون اس کے چہرے پر تھا۔ روتھ فاؤ ساری زندگی دلہن نہیں بنی چونکہ وہ راہبہ تھی۔ اپنے عقیدے کے مطابق دنیا تیاگ دی۔
1988ء روتھ فاؤ کو پاکستانی شہریت ملی اور 29 سالہ جرمن ڈاکٹر نے 1960ء کراچی کی ایک کچی کوٹھوں کی بستی میں قیام کا فیصلہ کیا تو سب حیران رہ گئے۔ تب کراچی آئی آئی چندریگر روڈ سے متصل ریلوے کالونی میں لوگ کوڑھ کے مریضوں کو لاعلاج سمجھ کر ڈال دیتے جہاں وہ سسک سسک کر مرتے رہتے۔
ابتداء میں وہاں ایک ہسپتال کی بنیاد رکھی اور کوڑھ مریضوں کی پوری بستی کا خاتمہ کر دیا۔
وہ پاکستان میں اپنی زندگی کے 50 سے زائد برس ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہا رہی۔ چارپائی نما بستر سرہانے رکھا کولر میز پر چند کتابیں اور سامنے میز پر رکھے کچھ برتن۔ روتھ فاؤ نے کبھی اپنے یا اپنے کام کی تشہیر نہیں چاہی۔ خاموشی سے کام کرتی رہی خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئی،
عالمی اداروں نے 1996ء پاکستان کو لپریسی کنٹرول کرنے والا ملک قرار دے دیا۔ ایک اکیلی فاؤ نے جذام کا پاکستان سے خاتمہ کر دیا۔