چین کا مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان

اقوام متحدہ : اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن نے عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بارے میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں بریفنگ دی۔ بریفنگ میں 70 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تمام فریقوں نے عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی، چینی صدر شی جن پھنگ کے اے آئی گورننس کے بارے میں اہم خیالات اور تعاون کے انیشی ایٹو کو سراہا،ورلڈ اے آئی کو آپریشن آرگنائزیشن کے قیام کا خیرمقدم کیا، اورکانفرنس میں اعلان کردہ تعاون کے انیشی ایٹو کو مشترکہ طور پر نافذ کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تاکہ ترقی پذیر ممالک کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جائے اور جامع اشتراک اورمشترکہ کامیابیوں پر مبنی تعاون حاصل کیا جائے۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے کہا کہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پھنگ نے عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے نظام، عوام کو ترجیح دینے پر مبنی تصور، گلوبل ساؤتھ ممالک کے درمیان انٹیلی جنس گیپ کو کم کرنے، ورلڈ اے آئی کو آپریشن آرگنائزیشن کے قیام اور اقوام متحدہ کے ورلڈ اے آئی گورننس کے عمل کی حمایت کرنے سمیت دیگر شعبوں میں جامع اور منظم طریقے سے چینی حل پیش کیا اور عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی میں اہم خدمات سرانجام دیں۔ فو چھونگ کا کہنا تھا کہ چین اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کی مستقبل کی عالمی حکمرانی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال اور منصوبہ بندی کرے گا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے ڈیجیٹل اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیزامندیپ سنگھ گل نے کہا کہ ورلڈ اے آئی کانفرنس ایک سنگ میل کی اہمیت رکھتی ہے اور امید ہے کہ ورلڈ اے آئی کو آپریشن آرگنائزیشن اقوام متحدہ کے ساتھ قریبی تعاون کرےگی۔

Comments (0)
Add Comment