بیجنگ :چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے منیلا میں ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن، آسیان کے سیکرٹری جنرل کاؤ کم ہورن، آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔بدھ کے روز ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن سے ملاقات کے دوران وانگ ای نے کہا کہ چین ملائیشیا کے ساتھ تمام سطحوں پر قریبی روابط برقرار رکھنے، جامع تعاون کو مزید گہرا کرنے، بحری شعبے میں تبادلوں اور تعاون کو فروغ دینے اور چین- ملائیشیا تعلقات کو مشترکہ طور پر نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہے۔ چین کو امید ہے کہ ملائیشیا، چین- آسیان تعلقات کے رابطہ کار کی حیثیت سے، چین اور آسیان کے مشترکہ مفادات کے تحفظ میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔ محمد حسن نے کہا کہ چین ملائیشیا کا قابل اعتماد دوست اور شراکت دار ہے۔ ملائیشیا ون چائنا پالیسی پر مضبوطی سے قائم ہے اور آسیان- چین تعاون کو مکمل طور پر فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا بحیرہ جنوبی چین کے لیے ضابطہ اخلاق پر جلد از جلد اتفاق رائے کے حصول کے لیے پرعزم ہے تاکہ بحیرہ جنوبی چین میں امن اور استحکام کا مشترکہ طور پر تحفظ کیا جا سکے۔آسیان کے سیکرٹری جنرل کاؤ کم ہورن سے ملاقات کے دوران وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ خوشگوار ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔ رواں سال چین اور آسیان کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کے قیام کی پانچویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ چین آسیان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے، ایک دوسرے کی حمایت کرنے، چین اور آسیان کے مشترکہ مفادات کے ساتھ ساتھ گلوبل ساؤتھ کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنے کا خواہاں ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین آسیان کے ساتھ مل کر بحیرہ جنوبی چین کے ضابطہ اخلاق سے متعلق مشاورت کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے کو متعلقہ فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ کاؤ کم ہورن نے علاقائی تعاون کے ڈھانچے میں آسیان کے مرکزی کردار کے لیے چین کی مضبوط حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین آسیان کا سب سے اہم جامع تزویراتی شراکت دار ہے اور آسیان چین کے ساتھ مل کر علاقائی امن و استحکام کے تحفظ اور ایشیا بحرالکاہل کی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے میں مزید اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ سے ملاقات کے دوران وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی مشترکہ رہنمائی میں چین -آسٹریلیا تعلقات بہتری اور ترقی کی درست راہ پر گامزن ہیں۔ چین آسٹریلیا کے ساتھ باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعلقات میں مسلسل پیش رفت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آسٹریلیا اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہتے ہوئے دوہرے معیار کو ترک کرے گا اور چین کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے رجحان کو برقرار رکھے گا۔ پینی وونگ نے کہا کہ آسٹریلیا ون چائنا پالیسی پر مضبوطی سے قائم ہے اور ” تائیوان کی علیحدگی "کی حمایت نہیں کرتا۔ آسٹریلیا چین کے ساتھ باہمی فائدہ مند تعاون کو فروغ دینے، بات چیت اور رابطے کے ذریعے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے اور آسٹریلیا -چین تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے ملاقات کے دوران وانگ ای نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے چین-کینیڈا تعلقات میں بہتری آئی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ حقائق نے ثابت کیا ہے کہ چین -کینیڈا تعلقات کی بہتری اور ترقی دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے اور یہ ایک درست تاریخی انتخاب ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین کینیڈا کے ساتھ مل کر اعلیٰ سطحی تبادلوں کی آئندہ سرگرمیوں کی تیاری، سیاسی باہمی اعتماد میں اضافے، تبادلوں اور تعاون کو وسعت دینے اور حساس مسائل کو مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ تبدیلیوں سے دوچار دنیا میں مزید استحکام اور یقین پیدا کیا جا سکے۔ انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا ون چائنا پالیسی پر مضبوطی سے قائم ہے اور چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی تبادلوں کو مزید مضبوط بنانے، اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے اور کینیڈا- چین تعلقات کی طویل مدتی، صحت مند اور مستحکم ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔