بیجنگ :نام نہاد "بحیرۂ جنوبی چین ثالثی کیس” فیصلے کے دس سال مکمل ہونے پر جاپان کے وزیرِ خارجہ موتیگی توشی مِتسو نے کھلے عام چین کے جائز مؤقف پر تنقید اور الزام تراشی کی۔ اس کے ساتھ ہی جاپان نے امریکہ، فلپائن اور دیگر 14 ممالک کے ساتھ مل کر نام نہاد "مشترکہ اعلامیہ” تشکیل دیا، جس میں بحیرۂ جنوبی چین میں چین کے تاریخی حقوق سے انکار کیا گیا۔یہ طویل عرصے سے تیار کی جانے والی سیاسی کوشش جاپان کے بحیرۂ جنوبی چین میں مداخلت اور خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کے پسِ پردہ موجود منفی عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔
چین نے جاپان کے سامنے سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے شدید عدم اطمینان اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ چین نے واضح کیا
ہے کہ وہ جاپان کی اشتعال انگیزی کا مضبوط اور مؤثر جواب دے گا اور اپنی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کا پختہ دفاع کرے گا۔دس سال قبل نام نہاد "بحیرۂ جنوبی چین ثالثی کیس” فیصلے کے پسِ پردہ اہم کردار ادا کرنے والوں میں جاپان شامل تھا۔ اس وقت بین الاقوامی سمندری قانون کے ٹریبونل کے سربراہ اور جاپانی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جج شُنجی یانائی نے پانچ ثالثوں میں سے چار افراد کا تقرر کیا، جبکہ ایک ثالث فلپائن کی جانب سے مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح عارضی طور پر تشکیل دیے گئے نام نہاد "ثالثی ٹریبونل” کا فیصلہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قانون کی خلاف ورزی کرتا تھا۔ یہ نام نہاد فیصلہ محض ایک بے وقعت دستاویز ہے، جسے چین نہ قبول کرتا ہے اور نہ ہی تسلیم کرتا ہے۔گزشتہ دس برسوں کے دوران جاپان نے فلپائن کو مسلح کرنے کے عمل کو تیز کیا، جاپان۔فلپائن کے درمیان "نیم فوجی اتحاد” قائم کرنے کی کوشش کی، اور بحیرۂ جنوبی چین کے مسئلے کو چین پر دباؤ ڈالنے، اپنے امن پسند آئین کی پابندیوں سے نکلنے، عسکریت پسندی کو دوبارہ زندہ کرنے اور ایشیا بحرالکاہل کے سمندری علاقے میں دوبارہ غلبہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ بحیرۂ جنوبی چین میں چین کی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے لیے بھرپور تاریخی اور قانونی بنیاد موجود ہے، جو کسی بھی صورت میں کسی غیر قانونی "ثالثی فیصلے” سے متاثر نہیں ہو سکتی۔اس وقت چین اور آسیان ممالک کے درمیان "بحیرۂ جنوبی چین میں فریقوں کے طرزِ عمل کے ضابطۂ کار” سے متعلق مشاورت ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تمام فریق رواں سال کے اندر مشاورت مکمل کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ اختلافات کے بہتر انتظام، باہمی اعتماد میں اضافے اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم رہنما اصول فراہم کیا جا سکے۔جاپان کو چاہیے کہ وہ اپنی جارحانہ تاریخ پر سنجیدگی سے غور کرے، امن پسند آئین سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے، بحیرۂ جنوبی چین کے معاملے پر حقائق کو مسخ کرنا اور تنازعات پیدا کرنا بند کرے، اور بحیرۂ جنوبی چین میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیاں فوری طور پر روک دے۔