بیجنگ:چین کی نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایوارڈ کانفرنس ، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ارکان کی جنرل اسمبلیاں ، اور چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی گیارہویں قومی کانگریس بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری ، صدر مملکت اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے ملک کے اعلیٰ ترین سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈز پیش کیے اور اس موقع پر اہم خطاب کیا۔شی جن پھنگ نے زور دیا کہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کا دور چین کو سائنس و ٹیکنالوجی کی مضبوط طاقت بنانے کے لیے اہم جدوجہد کا مرحلہ ہے۔ ہمیں تاریخی مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا، وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا، اعلیٰ معیار کی سائنسی و تکنیکی خود انحصاری کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانا ہوگا اور 2035 تک چین کو سائنس و ٹیکنالوجی کی مضبوط طاقت بنانے کے ہدف کی جانب ثابت قدمی سے پیش رفت کرنی ہوگی۔ سائنسی و تکنیکی جدت کے ذریعے چینی طرز جدیدیت کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا اور اس کی رہنمائی کرنا ہوگی۔شی جن پھنگ نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد سے مرکزی کمیٹی نے سائنسی و تکنیکی جدت کو جدیدیت کی تعمیر میں نمایاں مقام دیا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کی مضبوط طاقت بننے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی، جدت پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی پر گہرائی سے عمل درآمد کیا، سائنس و ٹیکنالوجی کے نظام میں جامع اصلاحات کیں، جس کے نتیجے میں چین کے سائنسی و تکنیکی شعبے میں تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور تاریخی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین عالمی سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں شریک اور معاون کردار سے تیزی سے ایک پہل کار اور رہنما کردار کی جانب بڑھ رہا ہے اور جدت طرازی کی صلاحیت میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ سائنسی و تکنیکی جدت میں نظامی تحقیقی اور ترقیاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور قومی جدت کے نظام کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت اور صنعتی جدت کے گہرے انضمام کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ سائنسی و تکنیکی کامیابیوں کو حقیقی پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنے کے راستے مزید ہموار کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ سائنس کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ اس لیے سائنس و تعلیم کے باہمی تعاون پر مبنی تربیتی نظام کو بہتر بنانا اور نوجوان باصلاحیت سائنسی ماہرین کی تیاری کو بھرپور فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سائنسی و تکنیکی شعبے کی بھرپور ترقی کے لیے پوری پارٹی اور پورے معاشرے کی مشترکہ کوششیں درکار ہیں۔شی جن پھنگ نے امید ظاہر کہ دونوں اکیڈمیوں کے ماہرین اپنے اعزازات کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے، مسلسل جدوجہد جاری رکھیں گے اور سائنسی و تکنیکی میدان کے نئے شعبہ جات کو فروغ دینے، نوجوان سائنسی صلاحیتوں کی تربیت اور دیگر شعبوں میں مثالی اور رہنما کردار ادا کریں گے۔