بیجنگ :اگر کسی ملک کو ایک تناور درخت سے تشبیہ دی جائے تو اس کی حکمرانی کی صلاحیت اس درخت کی جڑوں کی مانند ہوتی ہے۔ یہ جڑیں ایک طرف زمین کی گہرائی میں پیوست ہو کر غذائیت حاصل کرتی ہیں اور دوسری طرف درخت کو طوفانوں کے مقابلے میں مضبوطی سے قائم رکھتی ہیں۔ صوبہ زے جیانگ کی وو ای کاؤنٹی کے ہو چھن گاؤں میں جمہوری نگرانی کے نظام کی جستجو اور صوبہ گوئی چو میں واقع ہوا جیانگ گھاٹی پل جیسے عالمی معیار کے منصوبے، دو ایسے آئینوں کی مانند ہیں جن میں چین کے ترقیاتی معجزے کے پس منظر میں موجود گہری منطق واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کو طویل المدتی حکمت عملی کی تیاری اور مضبوط عملدرآمد کی صلاحیت حاصل ہے، یہ اپنے عوام کو مایوس نہ کرنے کے جذبے کو حکمرانی کے ہر شعبے میں شامل رکھتی ہے۔ یہی حکمرانی کی صلاحیت اور مسلسل متحرک قوت چین کے ترقیاتی معجزے کی مضبوط ترین بنیاد ہے۔بیس برس قبل صوبہ زے جیانگ کی وو ای کاؤنٹی کا ہو چھن گاؤں غیر شفاف دیہی انتظامیہ اور مسلسل تنازعات کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ 2004 میں، اس وقت کے صوبائی پارٹی سیکرٹری شی جن پھنگ کی رہنمائی میں یہاں چین کی تاریخ کی پہلی دیہی امور نگرانی کمیٹی قائم کی گئی۔2024 میں ہو چھن گاؤں میں ایک ہائی ٹیک صنعتی پارک کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا، جس کے لیے پرانی فیکٹریوں کو منہدم کرنا ضروری تھا۔ نگرانی کمیٹی نے گھر گھر جا کر آراء جمع کیں اور مکمل مشاورت کے بعد یہ منصوبہ بھاری اکثریت سے منظور ہوا اور تیزی سے عملی شکل اختیار کر گیا۔ اس عمل نے یہ ثابت کیا کہ چین میں نچلی سطح کی حکمرانی میں عوام کی شمولیت سے اختلافات کو مشاورت سے حل کیا جاتا ہے اور مکالمے کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کیا جاتا ہے۔اگر "ہو چھن گاؤں” چینی طرزِ حکمرانی کی باریک بینی، لچک اور مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے تو "ہوا جیانگ گھاٹی پل” اس کے عظیم وژن اور غیر معمولی رفتار کی نمائندگی کرتا ہے۔ صوبہ گوئی چو کی بلند و بالا پہاڑی گھاٹیوں پر تعمیر کیا گیا یہ پل دنیا کا بلندترین پل ہے اور چودہویں پانچ سالہ منصوبے” کے اہم منصوبوں میں شامل تھا۔ یہ منصوبہ ستمبر 2025 میں مکمل ہو کر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ منصوبے کی منظوری سے لے کر تکنیکی چیلنجز پر قابو پانے اور پھر بروقت تکمیل تک، اس پورے عمل نے ایک درست وقت بتانے والی گھڑی کی طرح پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق پیش رفت دکھائی۔ عظیم تصورات کو عملی حقیقت میں بدلنے کی یہی صلاحیت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ان دونوں مثالوں سے چین کے ترقیاتی معجزے کے پس منظر میں موجود تین بنیادی عوامل نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔پہلا، "ایک خاکے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے” کا مضبوط عزم ۔ بہت سے ممالک میں سیاسی جماعتوں کی تبدیلی کے ساتھ پالیسیاں بھی تبدیل ہو جاتی ہیں، لیکن چین میں پہلے پانچ سالہ منصوبے سے لے کر موجودہ "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” تک ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھا گیا ہے۔ ہوا جیانگ گھاٹی پل اس کی واحد مثال نہیں بلکہ گزشتہ ستر برس سے زائد عرصے پر محیط مسلسل منصوبہ بندی کے مجموعی نتائج کا محض ایک حصہ ہے۔ چاہے چنگھائی۔شی زانگ ریلوے ہو، ہانگ کانگ۔چو ہائی۔مکاؤ پل، جنوب سے شمال پانی کی منتقلی کا منصوبہ ہو یا مغرب سے مشرق قدرتی گیس کی ترسیل، یہ سب اس حقیقت کے عملی مظاہر ہیں کہ طویل المدتی منصوبے کس طرح حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ سیاسی ادوار سے بالاتر یہی تسلسل معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ماحول فراہم کرتا ہے اور سرمایہ کاروں و کاروباری اداروں کا اعتماد مضبوط بناتا ہے۔ دوسرا عنصر، "پایہ تکمیل” کی قابلِ ستائش عملدرآمد کی صلاحیت ہے۔ یہ صلاحیت محض اوپر سے نیچے جاری ہونے والے انتظامی احکامات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم اور مربوط انتظامی ڈھانچے پر مبنی ہے۔ مرکزی سطح پر پالیسی سازی، صوبائی اور مقامی سطح پر اس کا مؤثر نفاذ، اور نچلی سطح پر وسائل کے استعمال کی مکمل نگرانی، ان تمام مراحل میں عوامی آراء اور حکومتی فیصلے ایک دوسرے سے ہم آہنگ رہتے ہیں۔ یہی نظام پورے ملک کو ایک مربوط اکائی کی صورت میں آگے بڑھاتا ہے۔ غربت کے خلاف جنگ ہو یا فضائی آلودگی کے خلاف اقدامات، ان تمام کامیابیوں کے پیچھے یہی صلاحیت کارفرما رہی کہ پالیسی کو مؤثر انداز میں "پایہ تکمیل” تک پہنچایا جائے۔تیسرا عنصر "عوام پر مرکوز” خدمات کی فراہمی کا جذبہ ہے۔ترقی کا اصل معیار عوام کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلی ہوتی ہے۔ ہو چھن گاؤں میں جمہوری مشاورت کے ذریعے دیہاتی صرف تماشائی نہیں رہے بلکہ فیصلہ سازی کے فعال شریک بن گئے۔ نچلی سطح کی حکمرانی میں صرف سرکاری اہلکاروں کے فیصلوں کی جگہ اجتماعی مشاورت نے لے لی۔ دوسری جانب ہوا جیانگ گھاٹی پل کی تعمیر سے پہاڑی علاقوں کی زرعی مصنوعات تیزی سے ملک بھر کی منڈیوں تک پہنچنے لگیں اور دور دراز علاقوں کے بچوں کے لیے دنیا کو قریب سے دیکھنے کے مواقع مزید آسان ہو گئے۔ جس طرح غربت کے خاتمے کی مہم نے تقریباً دس کروڑ افراد کو انتہائی غربت سے نکالا، اسی طرح دیہی احیاء کی حکمت عملی کروڑوں دیہاتیوں کی زندگیوں میں نئی روح پھونک رہی ہے۔ "کسی کو بھی پیچھے نہ چھوڑنے” کے اس عزم نے چین کی ترقی کو عوامی اعتماد کی مضبوط بنیاد فراہم کی ہے اور عام لوگوں کو بھی قومی ترقی کے سفر میں اپنی شمولیت اور اس کے ثمرات کا احساس دلایا ہے۔ہو چھن گاؤں میں جمہوری نگرانی کے نظام سے لے کر ہوا جیانگ گھاٹی پر فضا میں معلق عظیم پل کی تعمیر تک، چین نے چند دہائیوں میں وہ صنعتی ترقی کا سفر طے کیا ہے جس میں مغربی ممالک کو کئی صدیاں لگیں۔ اس کامیابی کے پیچھے کوئی پیچیدہ نظریہ نہیں بلکہ حکمرانی کا ایک سادہ مگر مضبوط فلسفہ کارفرما ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں چین نے سائنسی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو مؤثر عمل درآمد کے ساتھ جوڑا ہے اور ہر مرحلے پر عوام کی فلاح و بہبود کو اپنی حکمرانی کا بنیادی مقصد بنایا ہے۔ یہی چین کے ترقیاتی معجزے کی سب سے واضح تشریح ہے اور یہی چین کی طرزِ حکمرانی کا وہ اہم سبق ہے جس پر دنیا غور کر سکتی ہے۔