اقوام متحدہ :اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے، سون لے نے اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کے 2026 کے انسانی ہمدردی کے اجلاس کے عام مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مل کر ٹھوس انسانی ہمدردی کے اقدامات کرے۔سون لے نے کہا کہ موجودہ عالمی انسانی ہمدردی کی صورتحال سنگین ہے، مسلح تنازعات نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور نقل مکانی کو جنم دیا ہے، اور موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات نے متاثرہ آبادی کے بقا کے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ضروریات اور دستیاب وسائل کے درمیان تضاد مزید نمایاں ہو گیا ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو متحد ہونے اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سون لے نے کہا کہ انسانی امداد کے فنڈز کا خلا مسلسل بڑھ رہا ہے۔ چین عطیہ دہندگان پر زور دیتا ہے کہ وہ فنڈز فراہم کرنے کے اپنے وعدوں کو حقیقی معنوں میں پورا کریں اور امدادی کوششوں کو تیز کریں۔ امید ہے کہ اقوام متحدہ محدود وسائل کو متوازن انداز میں تقسیم کرے گی اور ان انسانی بحرانوں اور طویل مدتی بحرانوں کی مدد پر توجہ دے گی جنہیں فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی کا نہ ہونا انسانی بحرانوں کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ امداد وصول کرنے والے ممالک کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی پر مبنی امداد اور ترقیاتی امداد کے درمیان ہم آہنگی پر توجہ دے، اور انسانی بحرانوں کا سامنا کرنے والے ممالک کی ترقیاتی صلاحیت کو بہتر بنائے۔سون لے نے مزید کہا کہ چین بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور پر کاربند ہے اور ترقی پذیر ممالک کو انسانی ہمدردی پر مبنی امداد، آفات کے بعد بحالی اور تعمیر نو جیسے شعبوں میں تعاون فراہم کرتا ہے۔