اسلام آ باد :فٹ بال ورلڈ کپ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ بڑی ٹیموں اور عالمی ستاروں کے شاندار لمحات دنیا بھر کی سکرینوں پر چھائے ہوئے ہیں، لیکن جس چیز نے لاکھوں عام تماشائیوں کو متوجہ کیا ہے، وہ کروڑوں ڈالر مالیت رکھنے والے سپر اسٹارز کی فتوحات نہیں، بلکہ کمزور ٹیموں کی وہ داستانیں ہیں جنہوں نے طوفانوں کا مقابلہ کیا اور بڑی طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان سے متعلق تقریباً چالیس برس کے اپنے میڈیا تجربے کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ورلڈ کپ جس کھیل کے جذبے کو ابھارتا ہے، اس کا مرکزی جذبہ پاکستانی قوم کے مزاج سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان اگرچہ کبھی ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے تک نہیں پہنچا اور نہ ہی اس کے پاس فٹ بال کی بہترین بنیادی سہولیات و نظام ہے، لیکن یہاں فٹ بال کا جنون کسی روشن شعلے کی مانند زندہ ہے۔ کھیلوں کی کئی دہائیوں پر محیط تاریخ میں یہ قوم ہمیشہ کمزور حیثیت سے ابھر کر طاقتور بننے کی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔جو لوگ پاکستانی کھیلوں سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کرکٹ پاکستانی قومی وقار کی علامت ہے۔ پاکستانی کرکٹ کی ترقی کبھی بھی اعلیٰ ترین وسائل یا بھاری سرمایہ کاری سے نہیں ہوئی، بلکہ اس کی راہ میں رکاوٹیں ہی رکاوٹیں تھیں۔ اس کے باوجود ہر دور کے پاکستانی کرکٹرز نے طاقتور حریفوں کا سامنا بے خوفی سے کیا۔ یورپی اور دیگر روایتی طاقتوں کے خلاف، انہوں نے ہمیشہ اتحاد، محنت اور جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور بین الاقوامی مقابلوں میں کئی بار ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے تاریخ رقم کی۔ یہ طاقتوں کے سامنے نہ جھکنے اور آخری لمحے تک ڈٹے رہنے کا جذبہ صرف کھیل تک محدود نہیں، بلکہ یہ پاکستانی قوم کی شناخت بن چکا ہے جو ہر شہری کے دل میں رچا بسا ہے۔یہی استقامت پاکستان میں عوامی سطح پر فٹ بال کے گہرے شوق کو بھی جِلا بخشتی ہے۔ فٹ بال اگرچہ پاکستان کا مرکزی کھیل نہیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی مکمل تربیتی نظام موجود ہے، جبکہ میدانوں اور متعلقہ سہولیات کی کمی بھی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے، لیکن جذبہ کبھی وسائل کا محتاج نہیں ہوتا۔ کراچی کے معروف فٹ بال مرکز لیاری سے لے کر دیہی علاقوں کے کھلے میدانوں اور عام بستیوں تک، ہزاروں نوجوان بے پناہ شوق کے ساتھ فٹ بال کھیلتے نظر آتے ہیں۔ نسل در نسل منتقل ہونے والی یہی خالص محبت فٹ بال کی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر ورلڈ کپ کے موقع پر لاکھوں پاکستانی لوگ عوامی طور پر جمع ہو کر میچ دیکھتے ہیں، جدوجہد کرنے والی ٹیموں کے حق میں نعرے لگاتے ہیں اور کمزور ٹیموں کی کامیابی پر خوشیاں مناتے ہیں۔ یہ سادہ مگر گہرا تعلق فٹ بال کی حقیقی روح کی عکاسی کرتا ہے اور پاکستان میں فٹ بال کے مستقبل کی بنیاد بھی ہے۔آج کے ورلڈ کپ میں چھوٹے ممالک کی کامیابیاں پاکستان کے خوابوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ بہت سی ایسی اقوام جو وسائل اور آبادی میں چھوٹی ہیں، جن کے پاس سپر اسٹارز یا پختہ نظام نہیں، وہ بھی اجتماعی یکجہتی اور ہمت سے دنیا کی بڑی طاقتوں کے سامنے ڈٹ گئی ہیں۔ افریقی جزیرہ نما ملک کیپ ورڈی پہلی بار ورلڈ کپ میں شامل ہوا اور اس کے سامنے اربوں کے وسائل کی حامل یورپی ٹیم اسپین تھی۔ اس کے باوجود کیپ ورڈی نے غیر معمولی جذبے کے ساتھ دفاع کیا، آخری لمحے تک مقابلہ جاری رکھا، میچ برابر کیا اور اپنی تاریخ کا پہلا پوائنٹ حاصل کر کے ثابت کر دیا کہ وسائل کی کمی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرتی۔ یہ فتح اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کھیلوں میں فتح کا فیصلہ صرف سرمایہ یا صلاحیت سے نہیں ہوتا، اصل طاقت خودی اور متحدہ جدوجہد ہے۔ بڑی طاقتوں کی عظمت ان کے وسائل سے وابستہ ہو سکتی ہے، لیکن کمزوروں کی کامیابی ان کی محنت، ثابت قدمی اور عزم کا حقیقی تمغہ ہوتی ہے۔یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پاکستانی فٹ بال ابھی دنیا کی بہترین ٹیموں سے پیچھے ہے، لیکن ہر عظیم خواب طویل تیاری اور محنت سے شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں بھی اپنے آپ کو منوانے کے لئے کافی وقت لگا، لیکن نسلوں کی محنت اور استقامت نے اسے دنیا کی چوٹی پر پہنچا دیا۔ آج پاکستان میں عوامی سطح پر فروغ پاتا ہوا فٹ بال کا ماحول اور نوجوانوں کا بے لوث جذبہ ہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جو مستقبل کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔سبز میدان قوموں کی ترقی اور ان کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ سے حاصل ہونے والی اسی استقامت اور مستقل مزاجی کو برقرار رکھے اور عوامی سطح پر پروان چڑھنے والے فٹ بال کے جذبے کی بھرپور سرپرستی کرے، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا فٹ بال خواب حقیقت بن جائے گا، قومی ٹیم ورلڈ کپ کے میدان میں اترے گی اور دنیا کو عام محنت کش لوگوں کی کامیابی اور عزم کا ایک نیا جشن دکھائے گی۔