کونمنگ (شِنہوا) پاکستانی تاجر سعد نے 2013 میں اپنے آبائی شہر سے مہوگنی لکڑی کی ہاتھ سے بنی مصنوعات کے ساتھ پہلی چین-جنوبی ایشیا نمائش (سی ایس اے ای) میں شرکت کی۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل 10 ایڈیشنز میں اس نمائش میں باقاعدہ شریک رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے اس نمائش کی شاندار ترقی کو قریب سے دیکھا ہے۔سعد کے مطابق وقت کے ساتھ نمائش کا مقام مزید وسیع ہوتا گیا ہے، شریک ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، آنے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی فروغ پا رہی ہیں۔ ان کے لئے سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ اب وہاں فراہم کی جانے والی خدمات زیادہ منظم اور سہولت بخش ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب ایک ہی جگہ پر تمام سہولیات فراہم کر دی جاتی ہیں۔‘‘ سعد نے یہ بھی بتایا کہ چین کا مضبوط لاجسٹکس نظام ان کے فرنیچر کے کاروبار کو مزید موثر اور تیز بناتا ہے۔سعد کے مطابق اس نمائش نے انہیں جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں کے تاجروں کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے میں مدد دی ہے اور تعاون کے مختلف مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔ ان کے بقول یہاں کی معاشی سرگرمیوں نے چینی منڈی پر ان کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔