اسلام آباد(ارسلان لون سے) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا اسلام آباد میں ایچ نائن کی رمشا کرسچن کالونی کا دورہ۔متاثرہ مکینوں سے ملاقات کی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے مسائل اور تحفظات سنے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر مشعال ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ غریب اور محنت کش طبقے کو بے گھر کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کچی آبادیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل متاثرین کے لیے متبادل رہائش کا مناسب انتظام کیا جائے تاکہ شہری بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے انسانی ہمدردی، انصاف اور آئینی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو عزت، تحفظ اور باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور کمزور و محروم طبقات کے مسائل کو نظر انداز کرنا تشویشناک امر ہے۔مشعال ملک نے متاثرہ خاندانوں کے تحفظات دور کرنے اور ان کے مسائل کا فوری حل نکالنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی آواز ہر فورم پر اٹھائیں گی اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے شوہر یاسین ملک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور گزشتہ ساڑھے بارہ برسوں سے ان کی فیملی نے انہیں نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی جدائی میں ان کا ہر دن قیامت کی طرح گزرتا ہے۔علاقائی اور بین الاقوامی امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی امن کے قیام کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا اور ان کی امن کی کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں پر وہ فیلڈ مارشل کو مبارکباد پیش کرتی ہیں۔آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ بھارت منفی پروپیگنڈے میں ملوث ہے اور پاکستان میں امن و استحکام نہیں دیکھنا چاہتا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور معاملات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جائز مطالبات آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے پورے کیے جائیں اور کسی بھی فریق کی جانب سے زور زبردستی سے گریز کیا جائے۔ مشعال ملک نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں کشیدگی کم کرنے کے لیے وہ فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کے درمیان محبت، بھائی چارے اور قربانیوں پر مبنی رشتہ مضبوط ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔