اوٹاوا :کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اوٹاوا میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔ہفتہ کے روز مارک کارنی نے کہا کہ رواں سال کے آغاز میں ان کے دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے چین اور کینیڈا کے درمیان نئی نوعیت کی تزویراتی شراکت داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط اور متعدد شعبوں میں تعاون تیزی سے بحال ہوا ہے اور اس سلسلے میں مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا چین کے ساتھ مل کر اعلیٰ سطحی تبادلوں کو مزید فروغ دینے، توانائی، مالیات، زراعت اور ماہی گیری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے اور دوطرفہ تعلقات کی بنیاد کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اپیک رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس کی میزبانی کے لیے چین کی حمایت کرتا ہے اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور عملی نفاذ کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے، تاکہ عالمی اقتصادی ترقی اور دنیا میں امن و استحکام کے قیام میں کردار ادا کیا جا سکے۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور کینیڈا کے تعلقات دوبارہ درست راہ پر گامزن ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں اور باہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کو تزویراتی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے آزاد تجارت اور کھلی عالمی معیشت کی حمایت کرنی چاہیے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچائےگا بلکہ غیر یقینی اور تغیر پذیر عالمی صورتحال میں چین اور کینیڈا کا استحکام فراہم کرےگا۔دورۂ کینیڈا کے دوران وانگ ای نے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے بھی بات چیت کی، جبکہ سابق کینیڈین وزیراعظم جین کریٹیئن سے بھی ملاقات کی۔