مشرقِ وسطیٰ کا خطہ جنگ اور امن کے درمیان ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، چینی صدر


بیجنگ : چین کے صدر شی جن پھنگ اور چین کے سرکاری دورے پر موجود روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں ملاقات اور مذاکرات ہوئے۔بدھ کے روز شی جن پھنگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین اور روس نے برابری، باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر نئے دور کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مسلسل فروغ دیا ہے، جس کے باعث دوطرفہ تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں تعاون زیادہ مؤثر اور ترقی کی رفتار مزید تیز ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو طویل المدتی اسٹریٹجک وژن کے ساتھ اعلیٰ معیار کے جامع اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ قومی ترقی و احیاء میں مدد مل سکے اور عالمی نظم و نسق کے نظام کو زیادہ منصفانہ اور متوازن سمت میں آگے بڑھایا جا سکے۔ شی جن پھنگ نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ اس وقت جنگ اور امن کے درمیان ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لیے چار نکاتی تجاویز اسی مقصد کے تحت پیش کی تھیں تاکہ عالمی برادری میں اتفاقِ رائے پیدا ہو، کشیدگی میں کمی آئے اور جنگ بندی و امن کی کوششوں کو تقویت ملے۔صدر پوٹن نے کہا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں روس اور چین کے تعلقات ایک غیر معمولی بلند سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ روس چین کے ساتھ کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے اور اپیک رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس کے کامیاب انعقاد کے لیے چین کی حمایت کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ روس اور چین مل کر شنگھائی تعاون تنظیم کی حیثیت اور اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کریں گے، جبکہ برکس میکانزم میں اتحاد اور تعاون کو فروغ دیں گے۔پوٹن کے مطابق دونوں ممالک اقوام متحدہ کے اختیار کے تحفظ، تہذیبی تنوع کے فروغ اور بین الاقوامی نظم و نسق کو زیادہ منصفانہ اور متوازن سمت میں آگے بڑھانے کے لیے بھی مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ ملاقات کے بعد دونوں سربراہانِ مملکت نے چین اور روس کے درمیان جامع اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ہمسائیگی پر مبنی دوستانہ تعاون کو گہرا کرنے سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔اسی روز شی جن پھنگ اور ولادیمیر پوٹن نے فریقین کے درمیان تعاون سے متعلق مختلف دستاویزات پر دستخطوں کی تقریب میں بھی مشترکہ طور پر شرکت کی۔اس سے قبل عظیم عوامی ہال کے باہر روسی صدر پوٹن کے اعزاز میں باقاعدہ استقبالیہ تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔دورے کے دوران فریقین نے عالمی کثیرالجہتی اور نئے طرز کے بین الاقوامی تعلقات کے فروغ سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق 20 دیگر معاہدوں اور دستاویزات پر بھی اتفاق کیا گیا ۔

Comments (0)
Add Comment