چینی اور امریکی صدور کی ملاقات میں مسئلۂ تائیوان اہم موضوعات میں شامل تھا، چینی وزیر خارجہ


بیجنگ : چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ہفتہ کے روز چین اور امریکہ کے سربراہان کی ملاقات اور حاصل کردہ اتفاق رائے پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے دوران چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ چین امریکہ تعلقات اور عالمی امن و ترقی سمیت دیگر اہم مسائل پر کھلی ، گہری ، تعمیری اور اسٹریٹجک نوعیت کی بات چیت کی اور دو بڑے ممالک کے تعلقات کی درست راہ کی مثبت طور پر نشاندہی کی۔دونوں فریقوں نے سلسلہ وار اہم اتفاق رائے حاصل کئے ہیں۔جیسا کہ کئی ذرائع ابلاغ نے نشاندہی کی کہ یہ ایک تاریخی ملاقات تھی۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماوں نے "چین امریکہ تعمیری تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات ” کو دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی پوزیشننگ قرار دینے پر اتفاق کیا۔چینی فریق کے مطابق یہ ایسا مثبت استحکام ہونا چاہیے جس میں تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہو، مسابقت متوازن اور محدود دائرے میں ہو، اختلافات قابلِ کنٹرول رہیں اور امن دیرپا اور قابلِ توقع ہو۔وانگ ای نے کہا کہ دونوں سربراہان نے ملاقاتوں، ٹیلیفونک رابطوں اور خطوط کے تبادلے سمیت مختلف ذرائع سے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر صدر شی جن پھنگ رواں برس موسم خزاں میں امریکہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ملاقات میں مسئلۂ تائیوان اہم موضوعات میں شامل تھا اور اس حوالے سے چین کا مؤقف نہایت واضح ہے۔ ملاقات کے دوران ہم نے محسوس کیا ہے کہ امریکہ چین کے موقف کو سمجھتا ہے، چین کے خدشات کو اہمیت دیتا ہے اور عالمی برادری کی طرح تائیوان کی علیحدگی کو نہ تو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی قبول کرتا ہے۔ آخر میں وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ چین امریکہ کے ساتھ مل کر دونو ں رہنماوں کے طے شدہ اہم اتفاقِ رائے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے تیار ہے، اور "چین امریکہ تعمیری تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات ” کے قیام کی سمت میں وسیع تر وژن اور طویل المدتی نقطۂ نظر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، تاکہ نئے دور میں بڑی طاقتوں کے باہمی تعلقات کا درست راستہ اختیار کیا جا سکے، دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد پہنچائے جا سکیں اور عالمی امن و ترقی میں زیادہ کردار ادا کیا جا سکے۔

Comments (0)
Add Comment