رواں سال ’’خوش آئند آغاز‘‘کے بعد، چینی معیشت استحکام کے ساتھ ترقی کرے گی ، چینی میڈیا

بیجنگ : اپریل میں چین کے قومی ادارہ شماریات نے پہلی سہ ماہی کے اقتصادی اعداد و شمار جاری کیے، جن میں اہم اقتصادی اشاریوں میں بہتری کا رجحان دیکھا گیا۔ جی ڈی پی میں سالانہ بنیاد پر پانچ فیصد اضافہ ہوا، جس نے مجموعی طور پر بہتر کارکردگی کی تصدیق کی ہے ۔ تاہم، آگے کا راستہ کس طرح طے ہوگا، اس کی سمت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اپریل کے اواخر میں منعقدہ سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے اجلاس نے چین کی معیشت کو مسلسل استحکام اور معیار پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے واضح نقشہ فراہم کیا ہے۔کہا گیا ہے کہ یہ ایک "خوش آئند آغاز”ہے، اور حقیقت میں اس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں چین کی جی ڈی پی 4193 .33 ٹریلین یوآن تک جا پہنچی، جس کی شرحِ نمو نہ صرف گزشتہ سال کی مجموعی شرح سے زیادہ ہے بلکہ عالمی بڑی معیشتوں میں بھی بہترین کارکردگی رکھنے والی معیشتوں میں شامل ہے۔ 4.5 فیصد سے 5 فیصد کے سالانہ ہدف کی بالائی حد پہلے ہی حاصل کر لی گئی ہے۔ساختی اعتبار سے تین اعداد و شمار خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔ پہلا بیرونی تجارت ہے۔ اشیاء کی تجارت کی درآمد اور برآمد 11.84 ٹریلین یوآن رہی، جو تاریخ کی اسی مدت میں پہلی بار 11 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی، اور یوں 15فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سہ ماہی بنیاد پر شرح نمو گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ رہی۔ مشرق وسطی کے حالات میں کشیدگی اور عالمی سپلائی چین کے مسلسل دباؤ کے پس منظر میں یہ عدد خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ دوسرا عنصر نئی معیاری پیداواری قوتیں ہیں ۔ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کی اضافی قدر میں گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ نامزد سائز سے بالا صنعتی اضافی قدر سے 6.4 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ نیو انرجی گاڑیاں، لیتھیم بیٹریاں اور دیگر سبز مصنوعات کی برآمدات نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔ تیسرا عنصر اندرونی طلب کا اہم کردار ہے۔ پہلی سہ ماہی میں معیشت کی ترقی میں اندرونی طلب کی شراکت کا تناسب 84.7 فیصد تک پہنچ گیا، جو کہ سال بہ سال تقریباً 30 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے ۔ صارفین اور خدمات کی ‘اندرونی توانائی’ بتدریج اہم کردار ادا کر رہی ہے۔چار اہم میکرو اقتصادی اشاریے ترقی، روزگار، قیمتوں اور بین الاقوامی ادائیگیوں میں ہم آہنگ بہتری نظر آرہی ہے ۔ یہ چین کی معیشت کی لچک کا سب سے براہِ راست مظہر ہے۔ تاہم مضبوط اعداد و شمار کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اطمینان اختیار کر سکتے ہیں ۔ 28 اپریل کو منعقدہ سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے اجلاس میں، ‘شروعات مضبوط اور اہم اشارے توقعات سے بہتر’ کی تصدیق کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ ‘معیشت کی مسلسل مستحکم اور مثبت سمت میں بنیاد کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے’۔اس جملے کے الفاظ کم ہیں، مگر اس میں معلومات کا حجم بہت زیادہ ہے۔ماضی کے اجلاسوں کے مقابلے میں، اس بار سب سے بڑی تبدیلی ایک نیا اظہار ہے: "مزید فعال مالیاتی پالیسی اور مناسب نرم کرنسی پالیسی”۔ اس سے پہلے "ہدفی اور مؤثر” کے الفاظ شامل کیے گئے ہیں۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی سہ ماہی میں رفتار تیز رہی ہے، لیکن آگے مزید تیز رفتاری کی ضرورت نہیں بلکہ رفتار کو درست سمت اور درست نقطے پر برقرار رکھنا ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں؟ ایک طرف مالی اخراجات کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ضروری ہے، یعنی سپلائی اور سرمایہ کاری پر زور کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں اور شہریوں، پیداوار اور طلب دونوں پہلوؤں کو برابر اہمیت دینا، اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں مزید گہرائی پیدا کرنا، تاکہ تعلیم، پنشن، صحت کی دیکھ بھال وغیرہ جیسے بنیادی شعبوں میں "تین ضمانتوں” کی نچلی حد کو مضبوطی سے برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری طرف کرنسی پالیسی میں مناسب نرمی برقرار رکھتے ہوئے پالیسی کے نفاذ کے "معیار” پر زیادہ بلند توقعات رکھی گئی ہیں۔ مجموعی رہنمائی یہ ہے کہ محض پیمانے میں اضافہ مقصد نہیں، بلکہ اچھے اسٹیل کو صحیح دھار پر استعمال کرنا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں، چین کی معیشت کے استحکام کو مزید تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور موڈیز جیسے ادارے مسلسل مثبت جائزے جاری کر رہے ہیں، مورگن اسٹینلے کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ چین تبدیل ہوتے حالات میں خاموش مگر مؤثر کامیابی حاصل کر رہا ہے ۔ پہلی سہ ماہی میں گولڈمین ساکس، سٹی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے چین کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی بڑھا دی، ان کے خیال میں چین بدستور عالمی ترقی کی سب سے اہم یقینی قوت ہے۔ اس اعتماد کے پیچھے، غیر ملکی سرمایہ کاری کا چینی ہمہ گیر صنعتی چین کی مضبوطی اور پالیسی نفاذ کی صلاحیت پر گہرا اعتماد موجود ہے۔پہلی سہ ماہی میں 5.0 فیصد کی ‘مضبوط شروعات’ سے لے کر سی پی سی سینٹرول کمیٹی کے سیاسی بیورو کے” ہدفی اور مؤثر” فیصلوں تک، چینی معیشت اس بات کی تصدیق کر رہی ہے: قلیل مدتی تیز رفتاری اہم ہے، لیکن طویل مدتی استحکام زیادہ اہم ہے۔ اعداد و شمار مستحکم ہیں، پالیسی میں توازن موجود ہے، اور بنیادی حالات بہتر ہیں۔ یہ تینوں عناصر مل کر یہ منطق تشکیل دیتے ہیں کہ چینی معیشت مسلسل "مستحکم اور بہتر” سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ عام لوگوں کے لیے صرف جی ڈی پی کے عدد پر توجہ دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اہم یہ ہے کہ آیا ان اعداد کے پیچھے روزگار کے مواقع ، آمدنی میں اضافہ اور کھپت میں زیادہ اعتماد موجود ہے یا نہیں۔ سیاسی بیورو کے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے اور اقدامات خوش آئند آغاز کے بعد، اس مرکزی مقصد کے لیے ایک مضبوط راستہ متعین کرتے ہیں جو صبر، درستگی اور تسلسل پر مبنی ہے ۔یقین ہے کہ جیسے جیسے مختلف پالیسیوں کا تسلسل سے نفاذ اور اثر دیکھنے میں آئے گا، مارکیٹ کی توانائی مسلسل بڑھتی رہے گی، چینی معیشت لازماً بہتر رجحان کو مستحکم کرے گی، معیار کی مؤثر بہتری اور مقدار میں مناسب اضافہ حاصل کرے گی، اور پورے سال کے ترقیاتی اہداف مضبوطی سے مکمل کرے گی۔

Comments (0)
Add Comment