چین میں نئی کھپت سے نئے منافع کا آغاذ

بیجنگ :چین کے ” پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کے آغاز کے سال میں ، اور چین کے صوبہ ہائی نان میں ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کے جزیرےبھر میں خصوصی کسٹمز آپریشنز کے باضابطہ آغازکے بعد پہلی بڑی نمائش کے طور پر چھٹی چائنا انٹرنیشنل کنزیومر گڈزایکسپو میں شریک نمائشی مصنوعات میں بین الاقوامی برانڈز کا تناسب پینسٹھ فیصد سے رہا جو گزشتہ نمائش کے مقابلے میں بیس فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ 277 نئے مصنوعات متعارف کرائی گئی ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں دگنی ہے۔

موجودہ ایکسپو میں پہلی بار سفر و سیاحت کی ریٹیل برانڈز کے لیے "انکیوبیشن زون” اور خریداری کرنے والوں کے لئے سروس سینٹر قائم کیا گیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کئی غیر ملکی کمپنیوں نے اس ایکسپو کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، تاکہ عالمی معیار کی مصنوعات اور چین کی اعلیٰ مصنوعات کے دوطرفہ تبادلے کو فروغ دیا جا سکے اور بڑی چینی منڈی کو پوری دنیا کے مواقع میں تبدیل کیا جائے۔

چین کی صارفی مارکیٹ کی تجدید، غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کونسے نئے مواقع لائے گی؟
سب سے پہلے، چینی لوگوں کی زندگی کے معیار میں بہتری کی وجہ سے مارکیٹ خود بخود بڑی ہو گئی ہے۔ اسی کے ساتھ، چینی لوگوں کی نئی طلب نے کمپنیوں کی جدت کو فروغ دیا۔

اس سےبھی اہم بات یہ ہے کہ سروس سیکٹر میں جامع پائلٹ پروگرام کی توسیع سے لے کر فری ٹریڈ ایریا کی تعداد 23 تک پہنچنے تک، چین کےکھلے پن کا ” نقشہ” زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں باربار یہ بیان کرتی ہیں کہ چین کی پالیسیوں میں استحکام اورپیش بینی کی خصوصیت کے باعث انہیں یہ حقیقی احساس ملا ہے کہ "چین میں سرمایہ کاری کرنا مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا ہے”۔

ان غیر ملکی کمپنیوں کی نظر میں، چین ایک سپر بڑی مارکیٹ، مکمل صنعتی چین، بھرپور مسابقت اور جدید اطلاق کے منظر ناموں کا حامل ملک ہے جو عالمی کمپنیوں کے لیے "بہترین آزمائشی میدان” ہے۔ 15 تاریخ کو، چینی درآمدی و برآمدی مصنوعات کی 139ویں نمائش گوانگ چو میں شروع ہوئی۔

نمائشیں یکے بعد دیگرے جاری ہیں، چین کے کھلے پن کے دروازے مسلسل وسیع ہو رہے ہیں۔ چینی طرز کی جدیدکاری میں اہم حصہ دار کےطور پر، غیر ملکی کمپنیاں چین کے ساتھ مل کر بہتر مستقبل تخلیق کر رہی ہیں۔

Comments (0)
Add Comment