بیجنگ :” چین اندرونی منگولیا آزاد تجارتی زون کا مجموعی منصوبہ جاری کر دیا گیا جس کے بعد چین میں آزاد تجارتی زونز کی تعداد بڑھ کر 23 ہو گئی ہے۔ اس سے نہ صرف اعلیٰ معیار کی ترقی کو مؤثر انداز میں فروغ دیا گیا ہے ، بلکہ عدم استحکام کی دنیا کو زیادہ یقین فراہم کیا گیا ہے اور چین کے اعلیٰ سطحی کھلے پن کو مزید وسعت دینے کے عزم اور ذمہ داری کو بھی ظاہر کیا گیا ہے ۔ اندرونی منگولیا آزاد تجارتی زون کا قیام چین کے اصلاحات اور کھلے پن کے فروغ کی تازہ ترین عملی مثال ہے۔ ستمبر 2013 میں شنگھائی فری ٹریڈ زون کے آغاز کے بعد، ایک دہائی سے زائد کی بھر پور کوشش اور محنت سے چین کے آزاد تجارتی زونز آج پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں ساحلی، اندرونی اور سرحدی علاقوں کو مربوط کرتے ہوئے کھلے پن کے نئے ماڈل کی تشکیل کر چکے ہیں ۔ 2024 تک، 22 آزاد تجارتی زونز نے ملک کے کل رقبے کے ایک ہزارویں حصے سے بھی کم علاقے پر مشتمل ہونے کے باوجود قومی سطح پر بیرونی سرمایہ کاری میں تقریبا پانچواں حصہ اور درآمدات و برآمدات میں چھٹا حصہ ڈالا ہے۔نیا قائم ہونے والا اندرونی منگولیا آزاد تجارتی زون عالمی سرمایہ کاری کو مزید متنوع انتخاب فراہم کرے گا، اور عالمی کمپنیوں کے لیے زیادہ وسیع مارکیٹ اور بہتر کاروباری ماحول فراہم کرے گا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جب بعض ممالک یکطرفہ پسندی اور تحفظ پسندی کی پالیسی کو فروغ دے رہے ہیں، چین مستقل طور پر آزاد تجارتی زونز کے نیٹ ورک کو وسعت دے رہا ہے ، اور ادارہ جاتی کھلےپن کو گہرا کر رہا ہے جو ہر لحاظ سے دنیا کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ اگر چہ ڈی گلوبلائزیشن کے رجحانات موجود ہیں ،لیکن تجارت اور سرمایہ کاری کی آزادی اور سہولت اب بھی عالمی ضرورت اور عوامی خواہش ہے ۔