ہتھیاروں کی برآمدات میں مکمل نرمی؟ جاپان کے "نئے فوجی رجحانات” دوبارہ سر اٹھانے لگے

ٹوکیو: رپورٹس کے مطابق جاپانی حکومت رواں ماہ کے دوران "دفاعی سازوسامان کی منتقلی کے تین اصول” اور ان کے عملی رہنما اصولوں میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اقدام جاپان کی جانب سے ہتھیاروں کی برآمدات پر مکمل پابندیوں میں نرمی اور "امن آئین” کی حدود کو عبور کرنے کی تازہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سانائے تاکائیچی کی حکومت کے زیر غور منصوبے میں یہ شامل ہے کہ صرف غیر جنگی مقاصد کے لیے پانچ اقسام کے دفاعی سازوسامان کی برآمد کی پابندی ختم کر دی جائے، اور اصولی طور پر مہلک ہتھیاروں سمیت مکمل تیار شدہ فوجی مصنوعات کی برآمد کی اجازت دی جائے۔ مزید یہ کہ "جنگی حالات سے دوچار ممالک کو برآمد” کے حوالے سے "استثنائی شق” رکھی جائے گی تاکہ برآمدات کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔ اس کے علاوہ جاپانی پارلیمان کا کردار بھی تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں پہلے "پیشگی جائزہ اور بعد ازاں نگرانی” کا نظام تھا، اسے کمزور کر کے محض "بعد از اطلاع” تک محدود کیا جا رہا ہے، جس سے ہتھیاروں کی برآمد پر پارلیمانی "روک” کمزور ہو جائے گی۔جاپانی میڈیا کے تجزیے کے مطابق اگر یہ منصوبہ نافذ ہو گیا تو اس کا مطلب ہتھیاروں کی برآمدات پر مکمل نرمی ہوگا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو آگے بڑھانا جاپان کے گرد و نواح کے سکیورٹی ماحول کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ وقت میں جاپان کی اقتصادی رفتار سست ہے اور مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، ایسے میں کچھ حلقے فوجی صنعت کی صلاحیت کو استعمال کر کے معیشت کو سہارا دینا چاہتے ہیں، ساتھ ہی دفاعی صنعت کو مضبوط کر کے عسکری تیاریوں کو فروغ دینا بھی ان کے مقاصد میں شامل ہے۔ مزید برآں ہتھیاروں کی برآمد کے ذریعے بیرونی اثر و رسوخ بڑھانے اور اتحادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔تاریخ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ عسکریت پسندی تباہی کا راستہ ہے۔ جاپانی حکومت کے ان اقدامات کے حوالے سے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بلند سطح کی "چوکسی” اختیار کرے اور اس کی بھرپور مخالفت کرے، تاکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام اور اس کے ثمرات کا تحفظ کیا جا سکے۔

Comments (0)
Add Comment