چین اور پاکستان کی امن کی بحالی کی کوششوں سے امریکہ اسرائیل ایران تنازع کے حل کی امید

اسلام آ باد: چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، اور یہ کہ ایران اور امریکہ کے درمیان فائر بندی اسی دن سے نافذ ہو رہی ہے۔ اب تک فریقین نے اسلام آباد میں بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کے پرتشدد حالات میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تنازع مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے ، کیونکہ دونوں اطراف کے بنیادی مطالبات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ امن کا انحصار فریقین کی مذاکرات کی خواہش اور باہمی مفاہمت پر ہے۔ ایک ہفتہ قبل چین اور پاکستان نے پانچ نکاتی امن تجویز پیش کی تھی ، جس کا مقصد غیرجانبدارانہ اور منصفانہ حل تلاش کرنا اور مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ہے۔ یہ پانچ نکاتی تجویز اس بحران کو حل کرنے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کا واحد عملی راستہ ہے، اور اس سے چین-پاکستان تعاون میں نئی بلندیوں کا اظہار ہوتا ہے۔چین اور پاکستان کی امن کی بحالی کی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک نے اپنے سفارتی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کے لیے اہم مواقع پیدا کیے ہیں۔ تاہم، فائر بندی صرف ایک عارضی کامیابی ہے، حقیقی امن کے لیے فریقین کے درمیان مکمل اتفاق رائے ضروری ہے، جس کے لیے دونوں طرف سے خلوص نیت اور لچک درکار ہوگی۔ ایران کے دس نکاتی منصوبے میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، امریکی فوجیوں کی واپسی اور پابندیوں کا خاتمہ جیسے بنیادی مطالبات شامل ہیں، جو امریکی بالادستی کے خلاف واضح موقف کا اظہار ہیں۔ دوسری طرف، امریکہ کی فوجی دھمکیاں اور یکطرفہ نظریہ ان شرائط کو قبول کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ بنیادی تضاد ظاہر کرتا ہے کہ محض فائر بندی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ اصل امن تب ہی ممکن ہے جب امریکہ اور اسرائیل بالادستی کی سوچ ترک کرکے تمام فریقوں کے جائز تحفظات کا خیال رکھیں، اور یہ مانیں کہ چین-پاکستان کی پانچ نکاتی تجویز ہی خطے میں پائیدار امن کا واحد حل ہے۔چین اور پاکستان کی اس مشترکہ تجویز میں دشمنیوں کا خاتمہ، مذاکرات کا آغاز، خودمختاری کا احترام، توانائی کے راستوں کی حفاظت، اور کثیرالجہتی نظام کی بحالی جیسے نکات شامل ہیں۔ یہ تجویز خطے کی ضروریات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ تمام فریقوں کے تحفظات کو بھی مدنظر رکھتی ہے، اور "خودمختاری کا احترام اور سیاسی حل” کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف تنازع کی شدت کم کرنے بلکہ اس کی جڑوں تک پہنچنے پر مرکوز ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔چین اور پاکستان کا مشترکہ امن ایجنڈا دونوں ممالک کے چار موسمی سٹریٹجک شراکت دارانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ طویل عرصے سے، چین اور پاکستان نے نہ صرف دوطرفہ معاملات میں گہرا تعاون قائم رکھا ہے بلکہ بین الاقوامی امور پر بھی مشترکہ کاوشیں کی ہیں۔ موجودہ بحران میں دونوں ممالک کی فوری اور مربوط کوششیں ان کے تعاون کی نئی مثال ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ چین-پاکستان تعلقات دوطرفہ حدود سے آگے بڑھ کر خطے اور عالمی استحکام کی اہم قوت بن چکے ہیں۔ چین امن و ترقی کے فلسفے پر کاربند ہے، پاکستان کے ساتھ مل کر امن کی حمایت کرتا ہے، اس کے ذاتی مفادات نہیں ،یہ جانب دار نہیں ، اور اپنے عمل سے ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کے فرائض کو ادا کرتا ہے ۔چین اور پاکستان کی امن کوششوں کے برعکس، امریکہ اور اسرائیل کی بالادستی کی پالیسیاں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ لانسیٹ کی ایک تحقیق کے مطابق، 1971 سے 2021 کے درمیان، امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں 3 کروڑ 80 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، جو پہلی جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے چار گنا زیادہ ہے۔ امریکی پابندیاں خاموش توپوں کی مانند ہیں، جو خوراک اور ادویات کی ترسیل روک کر عام شہریوں کی زندگیاں تباہ کرتی ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ” آبنائے ہرمز پر بمباری صرف اس لیے کی جائے گی کیونکہ امریکی فوج کو یہ پسند ہے” امریکی بالادستی کی درندگی اور منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ ملک جو خود کو "انسانی حقوق کا محافظ” کہتا ہے، درحقیقت جمہوریت کے نام پر جنگوں کا آغاز کرتا ہے اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے، جس کی بین الاقوامی سطح پر بار ہا مذمت کی گئی ہے۔امریکہ،اسرائیل اور ایران کے درمیان فائر بندی تنازع کے خاتمے کا نقطہ آغاز ہوسکتی ہے، لیکن یہ حتمی حل نہیں۔ چین-پاکستان کی پانچ نکاتی تجویز مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی واحد عملی راہنمائی فراہم کرتی ہے، لیکن اس پر پیش رفت کا انحصار فریقین کے خلوص نیت پر ہے۔ امید ہے کہ فریقین تصادم کو ختم کرکے مساوی مکالمے کو اپنائیں گے، اور باہمی مفاہمت کے ذریعے فائدہ مند نتیجہ حاصل کریں گے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ بالادستی کی سوچ ترک کرے۔ چین اور پاکستان امن کی بحالی کی کوششوں میں اپنا کردار جاری رکھیں گے، اور تنازع میں شامل تمام فریقین سے خلوص نیت اور لچک کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کریں گے۔ بین الاقوامی امن کے لیے یہ کوششیں عالمی توجہ کی مستحق ہیں۔

Comments (0)
Add Comment