بیجنگ : چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے اپنے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البانیز کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی۔بدھ کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ اہم شراکت داروں کے طورپر چین اور آسٹریلیا کو دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے مثبت رجحان کو مستحکم کرنا چاہیے۔ چین آسٹریلیا کے ساتھ مل کر صدر شی جن پھنگ اور وزیر اعظم البانیز کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے، اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو برقرار رکھنے، مواصلات اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے،کثیرالجہتی اور آزاد تجارت کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنے کے لئے تیار ہے تاکہ خطے اور دنیا کو مزید استحکام فراہم کیا جائے۔ لی چھیانگ کا کہنا تھا کہ چین آسٹریلیا سے مزید اعلیٰ معیار کی مصنوعات درآمد کرنے، دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے لئے مارکیٹ کے اصولوں پر مبنی تعاون کو آگے بڑھانے اور باہمی فائدے اور جیت کے نتائج کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ فریقین کو دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر نظرثانی اور اپ گریڈنگ کو تیز کرنا ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے بہتر ادارہ جاتی ضمانتیں فراہم کی جاسکیں۔ البانیز نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر، آسٹریلیا اور چین کے تعلقات کی مستحکم ترقی نہایت اہم ہے۔ آسٹریلیا طویل عرصے سے ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ اختلافات کو مناسب طریقے سے نمٹانے اور آسٹریلیا چین جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال چین میں منعقد ہونے والے ایپک سربراہی اجلاس میں شرکت کے منتظر ہیں۔ آسٹریلیا عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور عالمی امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ کثیر الجہتی رابطے اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔