آبنائے ہرمزمیں بحری نقل و حمل کے مسئلے کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی فوجی کارروائی ہے، چینی وزارت خارجہ

بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ موجودہ عالمی توانائی کی قلت کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال ہے اور فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات نہ پڑیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں براہ راست "تیل پر قبضہ” کرنے کے لیے دوسرے ممالک کو اکسانے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کے مسئلے کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی فوجی کارروائی ہے۔ صرف فائربندی اور جنگ کے خاتمے سے ہی بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی حفاظت اور ہموار بہاؤ کو بنیادی طور پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی کے بارے میں ماؤ نینگ کا کہنا تھا کہ فوجی ذرائع مسئلے کو حل نہیں کر سکتے، اور تنازع کو بڑھانا کسی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہم تمام متصادم فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر فوجی آپریشن بند کرکے جلد از جلد امن مذاکرات شروع کریں اور مسائل کو بات چیت اور گفت و شنید کے ذریعے حل کریں تاکہ عالمی معیشت اور عالمی توانائی کی سلامتی پر مزید سنگین اثرات پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔پریس کانفرنس کے دوران اس سوال پر کہ آیا چین آبنائے ہرمزسے تیل کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون پر غور کر رہا ہے، چینی ترجمان نے کہا کہ اس وقت کلیدی امر یہی ہے کہ فوجی کارروائیوں کو جلد از جلد بند کیا جائے، اور تمام فریقوں کو اس سلسلے میں کوششیں کرنی چاہئیں۔ چین بھی اس سلسلے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

Comments (0)
Add Comment